حکومت کی جانب سے پہلی مرتبہ 15 سالہ زیرو کوپن بانڈ جاری
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
اسلام آباد: حکومتِ پاکستان نے بدھ کے روز ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ 15 سالہ زیرو کوپن بانڈ جاری کر دیا۔ اس اقدام کا مقصد سرمایہ کاروں کی بنیاد کو وسعت دینا، قرضوں کے انتظام کو بہتر بنانا، اور مالیاتی نظام میں جدید مصنوعات متعارف کرانا ہے۔
وزارت خزانہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق حکومت نے حکومتی بانڈز کی ایک بڑی نیلامی کے ذریعے 1.
بیان میں بتایا گیا کہ یہ بانڈ 12.7 فیصد کی شرح سے جاری کیا گیا ہے۔ زیرو کوپن بانڈ میں ہر سال سود ادا نہیں کیا جاتا، بلکہ سرمایہ کاروں کو 15 سال کے اختتام پر مکمل رقم ایک ساتھ ادا کی جاتی ہے۔ اس طریقہ کار سے حکومت قلیل مدتی ادائیگیوں سے بچ سکتی ہے اور طویل مدتی مالی منصوبہ بندی میں آسانی ہوتی ہے۔ سرمایہ کاروں کی مثبت دلچسپی ظاہر کرتی ہے کہ وہ پاکستان کی معیشت اور اصلاحاتی پالیسیوں پر اعتماد رکھتے ہیں۔
حکومت کے مطابق یہ اقدام قرضوں کے خطرات کم کرنے، ادائیگی کی مدت بڑھانے، اور اسلامی و طویل مدتی مالیاتی مصنوعات کو فروغ دینے کی وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
اس نیلامی کے بعد دیگر حکومتی بانڈز پر منافع کی شرح (ییلڈ) میں بھی کمی آئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مالیاتی منڈیوں میں مہنگائی کے کم ہونے اور شرح سود میں کمی کی امید ہے۔ فکسڈ ریٹ پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز میں 5 سالہ بانڈ کی ییلڈ میں 44 بیسز پوائنٹس اور 10 سالہ بانڈ کی ییلڈ میں 9 بیسز پوائنٹس کی کمی ہوئی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ملک کا قرضہ اب زیادہ مستحکم ہو رہا ہے۔ مقامی قرضوں کی اوسط واپسی کی مدت 2.7 سال سے بڑھ کر اب 3.75 سال ہو گئی ہے، جو قرضوں کی فوری ادائیگی کے دباؤ کو کم کرتی ہے۔ مزید یہ کہ اب صرف بینک ہی نہیں، بلکہ پنشن فنڈز اور انشورنس کمپنیاں بھی حکومتی بانڈز میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں، جس سے مالیاتی خطرات میں کمی اور مقامی سرمایہ کاری کی بنیاد میں وسعت آ رہی ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے اس اقدام کو پاکستان کے مالیاتی نظام کو مضبوط اور مستحکم بنانے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا۔ اُن کا کہنا تھا:
“ہم نئے اور ہوشیار طریقے متعارف کرا رہے ہیں جو نہ صرف قرضے کے خطرات کو کم کرتے ہیں بلکہ سرمایہ کاروں کے لیے مزید مواقع فراہم کرتے ہیں۔ ہمارا ہدف ہے کہ عوامی قرضے کو ذمہ داری سے سنبھالیں، اسلامی مالیات کو فروغ دیں، اور معیشت کی ترقی کے لیے طویل مدتی سرمایہ کاری کو بڑھاوا دیں۔”
وزارت خزانہ عام شہریوں کے لیے بھی حکومتی بانڈز، خصوصاً اسلامی بانڈز، میں سرمایہ کاری کو آسان بنانے کے لیے نئی مصنوعات پر کام کر رہی ہے تاکہ بچت کو فروغ دیا جا سکے اور مالی شمولیت ممکن ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: زیرو کوپن بانڈ سرمایہ کاروں حکومتی بانڈز سرمایہ کاری کے لیے
پڑھیں:
سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
کراچی: سندھ حکومت نے سرکاری ملازمین کو مہنگائی کے اثرات سے ریلیف دینے کے لیے سفری الاؤنس اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اس فیصلے کی منظوری دی گئی، جبکہ نئی شرحوں کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔
صوبائی کابینہ نے سرکاری ملازمین کے لیے ریلیف پیکیج، صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے، گورننس اور غذائی تحفظ سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری بھی دی۔
بی پی ایس 1 سے 16 تک ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس
کابینہ نے بی پی ایس 1 سے 16 تک کے ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس 2026 کی منظوری دی ہے۔ یہ الاؤنس منجمد بنیادی پے اسکیل 2022، جو 30 جون 2026 تک نافذ تھا، پر 2 فیصد کی شرح سے ادا کیا جائے گا۔
حکومت کے مطابق اس الاؤنس کا مقصد وہ فرق ختم کرنا ہے جو 2025 میں سندھ حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت کے مقابلے میں زیادہ تنخواہوں میں اضافے کے باعث پیدا ہوا تھا۔
سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافہ
سندھ کابینہ نے تمام صوبائی سرکاری ملازمین کے سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافے کی بھی منظوری دی ہے۔ نئی شرحیں درج ذیل ہوں گی:
گریڈ پرانا الاؤنس نیا الاؤنس
بی پی ایس 1 تا 4 1,785 روپے 2,678 روپے
بی پی ایس 5 تا 10 1,932 روپے 2,898 روپے
بی پی ایس 11 تا 15 2,856 روپے 4,284 روپے
بی پی ایس 16 اور اس سے اوپر 5,000 روپے 7,500 روپے
معذور ملازمین کے لیے خصوصی سہولت
کابینہ نے معذور سرکاری ملازمین کے لیے خصوصی سفری الاؤنس میں بھی اضافہ کرتے ہوئے اسے 6 ہزار روپے سے بڑھا کر 10 ہزار روپے ماہانہ کرنے کی منظوری دی ہے۔ یہ رقم معمول کے سفری الاؤنس کے علاوہ ادا کی جائے گی۔
اطلاق کب سے ہوگا؟
حکومت سندھ کے مطابق سفری اور تفریقی الاؤنس سے متعلق تمام منظور شدہ فیصلوں پر یکم جولائی 2026 سے عمل درآمد ہوگا اور یہ موجودہ قواعد و ضوابط کے تحت نافذ رہیں گے۔
دوسری جانب صوبائی کابینہ نے ایگزیکٹو الاؤنس دینے کی تجویز منظور نہیں کی۔ وزیر اطلاعات نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس تجویز پر فی الحال اتفاق نہیں ہو سکا۔
سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بڑھتی مہنگائی کے تناظر میں سرکاری ملازمین کو مالی ریلیف فراہم کرنا اور ان کے سفری اخراجات میں کمی لانا ہے، جبکہ آئندہ بھی ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔