data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی فیڈرل ریزرو نے صدر ٹرمپ کی ہدایت نظر انداز کرتے ہوئے شرح سود کو دسمبر تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کرلیا۔ فیڈرل ریزرو کے چیف کا کہنا ہے رواں سال دسمبر تک شرح سود 4.25 سے 0 فیصد پر برقرار رکھی جائے گی۔ فیڈرل ریزرو نے امریکا میں مہنگائی اورمعاشی اشاریے بھی جاری کردیے، جس کے مطابق امریکا میں مہنگائی کی شرح تقریبا 3فیصد پر رہی۔ صدرٹرمپ نے فیڈرل ریزرو چیف کو شرح سود میں کمی ہدایت کی تھی لیکن انہوں نے ٹرمپ کی بات دوبارہ نہیں مانی اور شرح سود کو برقرار رکھا۔ پریس کانفرنس میں جیروم پاؤل نے خبردار کیا کہ صدر ٹرمپ کی طرف سے لگائے گئے نئے ٹیکس کی وجہ سے مہنگائی بڑھ سکتی ہے اور معیشت کی رفتار سست ہو سکتی ہے۔ مرکزی بینک کے نئے اندازے کے مطابق سال کے آخر تک مہنگائی 3 فیصد تک پہنچ سکتی ہے جو ابھی 2.

4 فیصد ہے،جب کہ بے روزگاری کی شرح 4.5 فیصد تک جا سکتی ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے لگائے گئے ٹیرف کے بارے میں مزید فیصلے جولائی میں متوقع ہیں، کیونکہ ان کے 90 دن کے عارضی وقفے کی مدت 9 جولائی کو ختم ہو رہی ہے۔ فیڈ کے حکام نے کہا ہے کہ وہ سال کے آخر تک شرح سود میں کمی کر سکتے ہیں، لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ کب ہو گی تاہم ماہرین کا اندازہ ہے کہ یہ کمی ستمبر میں ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مرکزی بینک کا چیئرمین جیروم پاؤل ہمارے ملک کو سیکڑوں ارب ڈالر کا نقصان پہنچا رہا ہے۔ اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر ایک پیغام میں امریکی صدر نے پوسٹ کیا کہ جیروم پاؤل حکومت کے سب سے نالائق افراد میں سے ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپ نے 10 بار شرح سود کم کی ہے، جب کہ ہم نے ایک بار بھی نہیں کی۔ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید لکھا کہ ہمیں شرح سود میں 2.5 پوائنٹس کمی کرنی چاہیے تھی، تاکہ بائیڈن کے قلیل مدتی قرضوں پر اربوں ڈالر کی بچت ہو سکتی۔ ہمارے ہاں مہنگائی کم ہے یہ امریکا کے لیے ایک شرمندگی ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل اپریل میں بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مرکزی بینک کے چیئرمین پر تنقید اور انہیں عہدے سے ہٹانے کی دھمکی کے نتیجے میں امریکی معیشت پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو دھچکا لگا تھا، جس سے مرکزی بینک کی آزادی خطرے میں پڑ گئی تھی۔ جنوری میں صدر ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے شرح اسی سطح پر برقرار ہے۔ امریکا میں آخری بار شرح سود میں کمی دسمبر 2024 ء میں کی گئی تھی اور اس وقت بائیڈن کی حکومت نے شرح سود میں 0.25 فیصد پوائنٹس کی کمی کی تھی۔فیڈرل ریزرو نے 2022 ء کے آغاز میں قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے شرح سود میں تیزی سے اضافہ کیا تھا جو 1980 ء کے بعد سے تیز رفتار سے بڑھ رہی تھیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فیڈرل ریزرو ٹرمپ کی سکتی ہے

پڑھیں:

پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (Pakistan Institute of Development Economics) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی ہے، جسے موجودہ معاشی حالات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں ایک اہم پالیسی تجویز قرار دیا جا رہا ہے۔

پائیڈ کی جانب سے جاری کردہ شواہد پر مبنی فریم ورک کے مطابق کم از کم اجرت میں اضافہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک وسیع معاشی اور سماجی ضرورت ہے، جو گھریلو سطح پر قوتِ خرید، غربت میں کمی، غیر رسمی روزگار کے رجحانات اور مجموعی معاشی استحکام پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر مالی سال 2026-27 کے لیے کم از کم اجرت 45 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جاتی ہے تو یہ موجودہ 40 ہزار روپے کی سطح کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافہ ہوگا۔ اس اضافے کو محنت کش طبقے کی مالی مشکلات میں کمی اور ان کی معاشی استعداد بہتر بنانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

پائیڈ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کم از کم اجرت کی پالیسی کو محض لیبر ڈپارٹمنٹ تک محدود نہیں رکھا جا سکتا، کیونکہ اس کا تعلق براہ راست عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، مہنگائی کے دباؤ اور مقامی مارکیٹ کی طلب سے جڑا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اجرت میں مناسب اضافہ نہ صرف مزدور طبقے کے معیارِ زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ پیداواری عمل میں بھی مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔

مزیدپڑھیں:حکومت کا ریئل اسٹیٹ پیکیج تیار، فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے 1.5 فیصد تک لانے کی تجویز

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط مہنگائی کی شرح تقریباً 6.19 فیصد رہی، تاہم اپریل 2026 میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی بڑھ کر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی، جس نے عام شہریوں کی قوتِ خرید کو مزید متاثر کیا۔

 موجودہ معاشی صورتحال میں اجرتوں میں اضافہ ایک متوازن پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ کاروباری لاگت اور روزگار کے مواقع پر بھی اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔

پائیڈ کی سفارش کے بعد اب یہ معاملہ حکومتی سطح پر غور کے لیے پیش کیا جائے گا، جہاں حتمی فیصلہ بجٹ پالیسی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا