اسرائیل مخالف ایک نئے سائبر گروپ ’سائبر سپورٹ فرنٹ‘ نے جمعرات کو اپنی موجودگی کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے صیہونی حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر سائبر محاصرے اور اس کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کے سائبر اٹیک میں بھارت کو کس تباہی کا سامنا کرنا پڑا؟ تفصیلات سامنے آگئیں

پاسدارن ایران کی نمائندہ سائٹ ’تسنیم نیوز‘ کے مطابق یہ گروپ، جس کا عربی نام ’الجبهة الإسنادية السيبرانية‘ (الاسناد السیبرانیہ فرنٹ) ہے، نے اپنے ٹیلیگرام چینل پر ایک بیان جاری کیا، جس میں بتایا گیا کہ یہ مختلف عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے سائبر ماہرین پر مشتمل ہے اور اسرائیل کے خلاف مزاحمتی محاذ کا حصہ ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مزاحمتی قوتوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے ایک نئی سائبر فرنٹ کھول دی گئی ہے، جس کا مقصد صیہونی حکومت کا محاصرہ کرنا ہے۔

گروپ نے مزید کہا کہ وہ قابض اسرائیلی ریاست کو مکمل طور پر سائبر محاصرے میں لے کر اس کی اہم شریانوں کو کاٹنے کی کوشش کرے گا تاکہ اسلامی امت کا دفاع کیا جا سکے۔

اختتام پر گروپ نے اعلان کیا ہے کہ صیہونیوں کے خلاف سائبر محاصرہ شروع ہو چکا ہے، اور اب قابض حکومت کے تمام اہم انفراسٹرکچر سائبر سپورٹ فرنٹ کے جائز اہداف ہوں گے۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، اور سائبر جنگ اس تنازعے کا نیا محاذ بنتی جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل اسرائیل مخالف گروپ الاسناد السیبرانیہ فرنٹ ایران سائبر اٹیک سائبر گروپ سائبرحملے.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل الاسناد السیبرانیہ فرنٹ ایران سائبر اٹیک سائبر گروپ سائبرحملے

پڑھیں:

واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع

اسرائیل کی جانب سے لبنان پر خون ریز حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان واشنگٹن میں مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں شروع ہونے والے مذاکرات جنگ بندی مذاکرات کا تسلسل اور چوتھا دور ہے۔

لبنان کی سرکاری خبرایجنسی نے بتایا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور واشنگٹن میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ہیڈکوارٹرز میں شروع ہوگئے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مذاکرات کے لیے دونوں فریق کے نمائندے واشنگٹن پہنچے، جس کے بعد مذاکرات شروع ہوئے ہیں۔

قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو لبنان پر حملوں کے حوالے سے ٹیلی فون پر سخت الفاظ کا استعمال کیا تھا۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو پاگل قرار دیا اور کہا کہ ہر کوئی تم سے نفرت کرتا ہے، اسی وجہ سے لوگ اسرائیل سے بھی نفرت کرتے ہیں۔

دوسری جانب لبنان پر اسرائیل کے حملے جاری ہیں جہاں جنوبی لبنان کے بڑے شہروں میں سے ایک نباطیہ پر شدید بم باری کی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد