آئی ایم ایف نے 5 سال تک پرانی گاڑیاں درآمد کرنے کی اجازت دیدی
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے وزارت تجارت کو 5 سال تک پرانی گاڑیاں درآمد کرنے کی اجازت دے دی۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں وزارت تجارت حکام نے امپورٹ پالیسی پر بریفنگ دی اور بتایا کہ ستمبر 2025ء سے 5 سال پرانی گاڑیاں درآمدکرنے کی اجازت ہو گی اور 5 سال پرانی گاڑیوں پر 40 فیصد اضافی ڈیوٹی عاید کی جائے گی۔وزارت تجارت حکام کا کہنا تھاکہ انفرادی یا کمرشل استعمال کے لیے 3 سال پرانی گاڑی منگوانے کی پابندی ختم کر دی گئی۔حکام نے مزید بتایا کہ مالی سال2027ء سے ہر سال اضافی ڈیوٹی میں بتدریج 10 فیصد کمی کی جائے گی اور بیگج میں لائی جانے والی گاڑی پر اضافی 40 فیصد ڈیوٹی عاید نہیں ہو گی۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ 10 سال پرانی گاڑیوں کی درآمد کھولنے کی بھی تجویز ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سال پرانی
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔