لاہور سمیت پنجاب میں شدید گرمی اور حبس، بارش کب ہوگی؟
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
لاہور:
لاہور سمیت پنجاب بھر میں خشک، گرم اور حبس کے موسم نے لوگوں کے پسینے نکال دیے، درجہ حرارت میں کمی کے باوجود حبس نے گرمی کی شدت بڑھا دی۔
تفصیلات کے مطابق گرمی اور حبس میں کمی لانے کا سسٹم پاکستان میں داخل ہوگیا، پی ڈی ایم اے نے آج سے 23 جون تک پنجاب بھر میں تیز ہواؤں، جھکڑ چلنے اور بارشوں کا امکان ظاہر کیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور میں آج کم سے کم درجہ حرارت 31 اور زیادہ سے زیادہ 38 ڈگری تک جانے کا امکان ہے، آج لاہور میں گرد آلود ہوائیں چلیں گی جبکہ بارش کا امکان کم ہے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق آج شام سے پنجاب میں پری مون سون بارشوں کا آغاز ہوگا اور 23 جون تک پنجاب کے بیشتر اضلاع میں تیز آندھی، گرد آلود ہوائیں اور بارش کی پیشگوئی ہے۔
راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، منڈی بہاوالدین، حافظ آباد، گجرات، جہلم، گجرانوالہ، لاہور، فیصل آباد، سیالکوٹ، نارووال، ٹوبہ ٹیک سنگھ، جھنگ، سرگودھا اور میانوالی میں بارشوں کے امکانات ہیں۔ 21 سے 23 جون جنوبی پنجاب ملتان، ڈیرہ غازی خان، بہاولپور اور بہاولنگر میں بھی بارش کی پیشگوئی ہے۔
ڈی جی عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت کے مطابق ضلعی انتظامیہ کو الرٹ جاری کر دیا ہے۔ بارشوں کے سلسلے سے گرمی اور ہیٹ ویو کی شدت میں کمی واقع ہوگی۔ محکمہ صحت آبپاشی تعمیر و مواصلات لوکل گورنمنٹ اور لائیو اسٹاک کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق شہریوں سے التماس ہے کہ خراب موسم کی صورتحال میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں، آندھی و طوفان کی صورتحال میں محفوظ مقامات پر رہیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ شہری آسمانی بجلی سے تحفظ کے لہے محفوظ مقامات پر رہیں۔
عوام الناس بجلی کی گرج چمک اور طوفانی صورتحال میں کھلے آسمان تلے ہرگز نہ جائیں۔ ایمرجنسی صورتحال میں پی ڈی ایم اے ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پی ڈی ایم اے صورتحال میں کے مطابق
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔