مولانا حامد الحق شہید پر حملے میں ملوث گروہ کی نشاندہی، رپورٹ وزیراعظم کو ارسال
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ اور دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے نائب مہتمم مولانا حامد الحق حقانی شہید پر ہونے والے خودکش حملے کی تحقیقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ اعلیٰ سرکاری ذرائع کے مطابق حملے کی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو ارسال کر دی گئی ہے۔
بین الاقوامی سازش بے نقاب
تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2 دشمن ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کی مدد سے ایک عالمی دہشتگرد تنظیم نے اس حملے کی منصوبہ بندی اور عملی انجام دہی کی۔ رپورٹ کے مطابق مولانا حامد الحق کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا گیا تاکہ ملک میں فرقہ ورانہ کشیدگی اور مذہبی افراتفری پیدا کی جا سکے۔
خودکش حملہ آور کی شناخت مکمل
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حملے میں ملوث خودکش بمبار کی قومیت کی شناخت بھی کرلی گئی ہے، جو کہ غیر ملکی تھا۔ وہ مدرسے میں باہر سے داخل ہوا اور نماز جمعہ کے فوراً بعد جامع مسجد میں خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔
پولیس کی تحقیقات میں پیشرفت
آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں تصدیق کی کہ تفتیشی ٹیم حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے گروپ تک پہنچ چکی ہے۔ ان کے مطابق سیکیورٹی ادارے مختلف زاویوں سے تفتیش کررہے ہیں اور جلد مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔
یاد رہے کہ یہ خوفناک دہشتگرد حملہ 28 فروری 2025 کو نوشہرہ میں پیش آیا تھا، جب دارالعلوم حقانیہ کی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے بعد ہونے والے خودکش دھماکے میں مولانا حامد الحق حقانی سمیت 8 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔
مولانا حامد الحق نہ صرف دارالعلوم حقانیہ کے نائب مہتمم تھے بلکہ وہ ایک علمی، سیاسی اور مذہبی شخصیت کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کے والد مولانا سمیع الحق شہید بھی دہشتگردی کا نشانہ بن چکے ہیں، اور یوں یہ دوسرا بڑا نقصان جمعیت علمائے اسلام (س) کو برداشت کرنا پڑا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اکوڑہ خٹک رپورٹ ارسال شہباز شریف ملوث گروہ کی نشاندہی مولانا حامدالحق شہید وزیراعظم پاکستان وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اکوڑہ خٹک رپورٹ ارسال شہباز شریف ملوث گروہ کی نشاندہی مولانا حامدالحق شہید وزیراعظم پاکستان وی نیوز مولانا حامد الحق حملے کی
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔