لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست، بعض علاقوں میں اے کیو آئی 985 ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
لاہور آج بھی دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست ہے جبکہ شہر کے بعض علاقوں میں اے کیو آئی کی سطح 985 تک ریکارڈ کی گئی ہے۔
بین الاقوامی ماحولیاتی ادارے آئی کیو ایئر کے مطابق جمعرات کے روز شہر کا مجموعی ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 598 ریکارڈ کیا گیا، جب کہ دہلی 475 کی سطح کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔
پنجاب ایئر کوالٹی انڈیکس کے مطابق لاہور، گجرانوالہ، شیخوپورہ اور قصور کے کئی علاقوں میں اے کیو آئی 500 تک جا پہنچا۔ فیصل آباد، سرگودھا اور ڈی جی خان میں آلودگی کی سطح بالترتیب 413، 392 اور 374 ریکارڈ ہوئی، جب کہ ملتان میں 275 اور بہاولپور میں 198 رہی۔ راولپنڈی اور سیالکوٹ میں فضا نسبتاً بہتر مگر اب بھی مضر صحت سطح پر 140 اور 196 پوائنٹس پر رہی۔
آئی کیو ایئر کے اعداد و شمار کے مطابق لاہور کے مختلف علاقوں میں فضا کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ سٹی اسکول علامہ اقبال ٹاؤن میں اے کیو آئی 985، ایف ایف پاکستان میں 816 اور صدر کینٹ میں 725 ریکارڈ کیا گیا۔ وائلڈ لائف اینڈ پارکس، ہائیکنگ اینڈ ماؤنٹینیرنگ اور راوی کیمپ کے علاقوں میں بھی آلودگی کی سطح 657 سے 702 کے درمیان رہی۔
پنجاب حکومت کے مطابق شاہدرہ، کاہنہ، ملتان روڈ، جی ٹی روڈ اور ایگرٹن روڈ جیسے علاقوں میں بھی اے کیو آئی 500 تک جا پہنچا، جب کہ پنجاب یونیورسٹی، سفاری پارک اور ڈی ایچ اے فیز 6 میں فضا نسبتاً بہتر مگر بدستور مضر صحت 300 سے 388 پوائنٹس کے درمیان رہی۔ واہگہ بارڈر پر اے کیو آئی 257 ریکارڈ کیا گیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ماحولیاتی ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والی زیر تعمیر عمارتوں، سڑکوں اور تعمیراتی مقامات کو فوری بند کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ، پولیس اور محکمہ زراعت کو نائٹ پٹرولنگ سخت کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسموگ سے نمٹنے کے لیے بین الادارہ جاتی تعاون اور ایمرجنسی اقدامات میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بھارت کے ہریانہ، پنجاب اور ہماچل سے مشرقی ہواؤں کے ذریعے آلودہ ذرات لاہور، فیصل آباد اور وسطی پنجاب کے علاقوں میں داخل ہو رہے ہیں۔ ہوا کی رفتار صرف 3 سے 6 میل فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے فضا میں آلودہ ذرات کے جمع ہونے اور زمین کے قریب ٹھہر جانے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ بھارتی پنجاب میں فصلوں کی باقیات جلانے سے صورتحال مزید بگڑ رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ رات کے اوقات میں درجہ حرارت میں کمی سے اسموگ کی شدت میں اضافہ متوقع ہے۔ 30 اکتوبر کو لاہور میں فضائی معیار 270 سے 320 پوائنٹس کے درمیان رہنے کا امکان ہے، جو ’’مضر صحت سے انتہائی مضر صحت‘‘ سطح کے درمیان تصور کیا جاتا ہے۔
محکمہ تحفظ ماحولیات (ای پی اے) کے مطابق ہڈیارہ ڈرین پر قائم ایک غیر قانونی بھٹے کو آلودگی کے باعث مسمار کر دیا گیا ہے، جب کہ اب تک 412 ٹن غیر معیاری پلاسٹک ضبط کر کے ری سائیکلنگ کے عمل سے گزارا جا چکا ہے۔ ای پی اے کی ڈرون نگرانی سے فصلوں کی باقیات جلانے کے واقعات میں نمایاں کمی بھی دیکھی گئی ہے۔
ادارہ تحفظ ماحولیات نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ دوپہر 12 سے 3 بجے اور رات 7 بجے کے بعد غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ بچوں، بزرگوں اور سانس یا دل کے مریضوں کے لیے خصوصی احتیاط کی ہدایت کی گئی ہے۔
حکام کے مطابق شام کے اوقات میں ٹریفک کے دباؤ سے آلودگی میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ شہریوں کو کار پولنگ اختیار کرنے اور دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے استعمال سے گریز کی تاکید کی گئی ہے۔
سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ پنجاب اس وقت ایک کلائمیٹ ریزیلینٹ پیراڈائم شفٹ کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ صوبے میں ماحول دوست پالیسیاں عملی شکل اختیار کر رہی ہیں، تعمیراتی سرگرمیوں، گاڑیوں کے دھوئیں اور پلاسٹک کے استعمال پر زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ ہے، جبکہ ضلعی سطح پر ایمرجنسی ٹیمیں روزانہ انسپیکشن اور رپورٹنگ کے عمل میں مصروف ہیں۔
محکمہ زراعت کے مطابق جدید مشینری کی فراہمی کا پروگرام 2026 کے سیزن سے قبل مکمل کر لیا جائے گا تاکہ کسان فصلوں کی باقیات جلانے کے بجائے انہیں جدید طریقوں سے تلف کر سکیں۔
ماہرین نے تنبیہ کی ہے کہ اگر موجودہ موسمی حالات برقرار رہے تو لاہور اور وسطی پنجاب کے بیشتر علاقے اگلے چند روز میں بھی خطرناک سطح کی آلودگی کی زد میں رہیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میں اے کیو آئی علاقوں میں ریکارڈ کی کے درمیان کی گئی ہے کے مطابق کی سطح
پڑھیں:
جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔
آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔
نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔
یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔
زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔
آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟
یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟
دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔