لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین کی 9 مئی سے متعلق شادمان آتشزدگی کیس میں ضمانت منظور کر لی ہے۔ یہ فیصلہ آج کوٹ لکھپت جیل میں مقدمے کی سماعت کے موقع پر جج نے سنایا۔ اسلام ٹائمز۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں پی ٹی آئی راہنماؤں کے خلاف احتجاج اور توڑ پھوڑ پر درج مقدمہ کا محفوظ فیصلہ جوڈیشل مجسٹریٹ شہزاد خان نے سنا دیا۔ عدالت نے بیرسٹر گوہر، عمر ایوب، علی بخاری، شعیب شاہین اور دیگر کو کراچی کمپنی مقدمہ سے بری کر دیا۔ پی ٹی آئی راہنما عامر ڈوگر، ملک رفیق اور عامر مغل کی بریت درخواستیں بھی منظور کر لی گئیں، عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف 26 اپریل 2024ء  کو احتجاج کیا گیا تھا۔ احتجاج شعیب شاہین کے دفتر سے کراچی کمپنی تک کیا گیا تھا، قبل ازیں عدالت نے مقدمہ نمبر 498 میں بھی بریت درخواستیں منظور کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔

قبل ازیں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے راہنماؤں کے خلاف احتجاج اور توڑ پھوڑ کے مقدمات کی سماعت ہوئی، جوڈیشل مجسٹریٹ شہزاد خان نے تھانہ کراچی کمپنی میں درج 2 مقدمات کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، عمر ایوب، علی بخاری، شعیب شاہین اور عامر ڈوگر عدالت میں پیش ہوئے، وکلاءِ صفائی نے تمام راہنماؤں کی جانب سے بریت کی درخواستوں پر دلائل مکمل کر لیے جس پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا تھا جو بعدازاں سنا دیا گیا۔

دوسری طرف لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کی 9 مئی سے متعلق شادمان آتشزدگی کیس میں ضمانت منظور کر لی ہے۔ یہ فیصلہ آج کوٹ لکھپت جیل میں مقدمے کی سماعت کے موقع پر جج منظر علی گل نے سنایا۔ گزشتہ روز اے ٹی سی لاہور میں شاہ محمود قریشی کے وکلا رانا مدثر عمر اور بیرسٹر تیمور ملک نے تفصیلی دلائل دیے تھے، جس کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ شاہ محمود قریشی نے کئی ماہ قبل شادمان آتشزدگی کیس میں ضمانت کی درخواست دائر کی تھی، اسی مقدمے میں جج منظر علی گل نے چند روز قبل سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کی ضمانت منظور کی تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: شعیب شاہین شاہ محمود پی ٹی آئی عدالت نے کی سماعت

پڑھیں:

اسلام آباد ہائیکورٹ کا این سی سی آئی اے فیز 3 کے گریڈ 16 تا 18 کے افسران کو بڑا ریلیف

اسلام آباد ہائی کورٹ نے این سی سی آئی اے فیز 3 کے گریڈ 16 تا 18 کے افسران کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے درخواست گزار افسران کے سرکاری فرائض میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ ڈالنے سے روک دیا۔

عدالت نے این سی سی آئی اے ملازمین کے خلاف کسی بھی تادیبی کارروائی سے روکنے کا حکمِ امتناع بھی برقرار رکھا۔

جسٹس محمد اعظم خان نے متاثرہ افسران کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی اور این سی سی آئی اے حکام کو چار روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت تک جواب جمع نہ کرایا گیا تو عدالت رِٹ پٹیشن پر فیصلہ کرنے کے ساتھ توہینِ عدالت کی کارروائی بھی شروع کر سکتی ہے۔

دورانِ سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ اتنے پڑھے لکھے اور تجربہ کار افراد کو کام سے روکنا زیادتی ہے۔ درخواست گزاروں کی جانب سے صدر سپریم کورٹ بار ہارون رشید اور منظور احمد ججہ ایڈووکیٹ پیش ہوئے، جبکہ عدالت نے کیس کی سماعت 30 جولائی تک ملتوی کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کا این سی سی آئی اے فیز 3 کے گریڈ 16 تا 18 کے افسران کو بڑا ریلیف
  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • فلک جاوید اور صنم جاوید کےخلاف ٹویٹ کیس کی سماعت ملتوی
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع