ایران کیخلاف استعمال ہونیوالا امریکا کا ’GBU 57‘ بنکر بسٹر بم اور B-2 بمبارطیارہ کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکا نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی میں مداخلت کرتے ہوئے ایران کی تین جوہری تنصیبات پر بمباری کی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ان حملوں میں زیرِ زمین جوہری مراکز کو نشانہ بنانے کے لیے امریکا نے اپنا سب سے طاقتور بنکر شکن بم GBU-57A/B میسیو آرڈیننس پینیٹریٹر (MOP) استعمال کیا۔
یہ بنکر بسٹر بم دنیا کا سب سے طاقتور غیر جوہری ہتھیار ہے جو صرف امریکا کے پاس موجود ہے، اور اسرائیل بھی اسے حاصل نہیں کر سکا۔
جی بی یو-57 اے/بی بم کا وزن 30 ہزار پاؤنڈ ہے جس میں 6 ہزار پاؤنڈ دھماکہ خیز مواد موجود ہوتا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ بم زیرِ زمین انتہائی مضبوط بنکرز، سرنگوں اور خفیہ تنصیبات کو تباہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
تقریباً 6 میٹر لمبا یہ بم زمین میں 200 فٹ گہرائی تک اثر انداز ہو سکتا ہے، اور اس سے زیادہ گہرائی میں موجود اہداف کو تباہ کرنے کے لیے ایسے بم یکے بعد دیگرے گرائے جا سکتے ہیں۔
تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ امریکی حملوں میں ایرانی جوہری تنصیبات مکمل طور پر تباہ ہوئیں یا نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔