بول، او آئی سی میں مقبوضہ جموں و کشمیر رابطہ گروپ کا اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
سٹی42: استنبول میں آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن، او آئی سی کےمقبوضہ جموں و کشمیر رابطہ گروپ کا اجلاس ہوا جس میں پاکستان کی نمائندگی وزیر خٓرجہ اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کی۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا اجلاس سے خطاب
اسحاق ڈار نے کشمیر پر او آئی سی کے اس اہم اجلاس مین گفتگو کرتے ہوئے کہا، کشمیری عوام کئی دہائیوں سے مظالم کا سامنا کررہے ہیں ۔ پاکستان نے ہمیشہ کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کی حمایت کی۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔
وزیر اعظم کا قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس طلب
اسحاق ڈار نے کہا، کشمیر اور فلسطین کے عوام اپنے بنیادی حق کے لیے جدوجہد کررہے ہیں ، مسلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قرار دادیں موجود ہیں۔
پہلگام واقعہ
اسحاق ڈار نے 22 اپریل کو پہلگام مین فالس فلیگ دہشتگردی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ بھارت نے پہلگام واقعہ کا بغیر تحقیقات کے پاکستان پر بے بنیاد الزام لگایا ۔ بھارت نے تحقیقات کی بجائے جارحیت کا راستہ اپنایا اور اس واقعے کو بہانہ بنا کر بھارت نے پاکستان کی شہری آبادی کو نشانہ بنایا ۔
روس اور چین کی ایران پر امریکی حملے کی مذمت
اسحاق ڈار نے کہا، بھارتی جارحیت میں بے گناہ شہری ، خواتین اور شہری شہید ہوئے ۔ بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان نے اپنے دفاع کا حق استعمال کیا ۔ پاکستان نے بھارت کی صرف فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ۔
وزیر خارجہ نے کہا، بھارت کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات سے خطے کے امن کو خطرات لاحق ہیں۔
بھارت گذشتہ کئی دہائیوں سے کشمیر پر غیر قانونی طور پر قابض ہے ۔جنوبی اشیا میں پائیدار امن کے لیے مسلہ کشمیر کا حق ناگزیر ہے ۔
شاہدرہ پولیس کی ہنی ٹریپ گروہ کے خلاف کارروائی ، پولیس کانسٹیبل سمیت 2 ملزم گرفتار
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار نے
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔