حق خودارادیت کے مطالبے پر زور دینے کے لئے راول گلی آزاد کشمیر میں ریلی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
پاسبان حریت جموں و کشمیر کے زیرِ اہتمام ریلی میں بزرگوں، نوجوانوں اور بچوں سمیت شہریوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اسلام ٹائمز۔ ریاست جموں و کشمیر کے سیاسی مستقبل کے تعین کی خاطر حق خودارادیت کے مطالبے پر زور دینے کے لئے آزاد جموں و کشمیر کے علاقے راول گلی میں ایک ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق پاسبان حریت جموں و کشمیر کے زیرِ اہتمام ریلی میں بزرگوں، نوجوانوں اور بچوں سمیت شہریوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ ریلی کے شرکاء نے بینرز اورکتبے اٹھا رکھے تھے جن پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کی مذمت کی گئی۔ احتجاجی مظاہرین نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی بربریت کیخلاف شدید نعرے بازی کی۔ شرکائے ریلی ”جس کشمیر کو خون سے سینچا وہ کشمیر ہمارا ہے”،”خون رنگ لائے گا انقلاب آئے گا”،”یہ جنگ ہے جنگ آزادی”،”بھارت سے لیں گے آزادی”جیسے نعرے لگا رہے تھے۔ مقررین نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام بھارت کے جبری قبضے کو مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو حل کئے بغیر خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت، آزادی، انصاف اور امن چاہتے ہیں۔ مقررین نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں قیام امن کشمیر کی آزادی سے وابستہ ہے۔انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیاکہ وہ جموں و کشمیر میں رائے شماری کا اپناںوعدہ پورا کرے۔ مقررین نے دنیا کے مہذب ممالک پر زورںدیا کہ و ہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اقدامات کریں۔ انہوں نے کہابکہ آزاد کشمیر کے عوام مقبوضہ جموں وکشمیر کی آزادی کے لئے ہر لمحہ تیار ہیں اور ہماری جدوجہد حصول آزادی تک جاری رہے گی۔ ریلی سے دیگر لوگوں کے علاوہ پاسبان حریت کے چیئرمین عزیر احمد غزالی، وائس چیئرمین عثمان علی ہاشم، محمد شفقت کھوکھر، محمد فیاض خان، سید رفاقت گیلانی، محمد ارشاد تانترے اور محمد صدیق قریشی نے بھی خطاب کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جموں و کشمیر کے انہوں نے کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے نہایت قریب انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں خوبصورت ہمالیائی پہاڑی سلسلے کے درمیان واقع ون دجی گاؤں کی 19 سالہ کلثومہ کے لیے جدید زمانہ صرف ایک محاورہ ہی ہے، کیونکہ ان کی زندگی قدیم انسانوں جیسی ہی ہے۔ون دجی گاؤں کی پانچ نسلوں نے آج تک بجلی کی روشنی نہیں دیکھی ہے اور نئی نسل بھی باورچی خانے میں چولہے کی آگ اور روشنی کے لیے مشعل کے دھویں میں پروان چڑھ رہی ہے۔اس گاؤں کو صدیوں سے بجلی کا انتظار ہے کیونکہ اسے ابھی تک بجلی کے گرڈ کے ساتھ نہیں جوڑا گیا ہے۔
ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں
ون دجی کی طرف جانے والے صرف راستے ہی دشوار نہیں ہیں، یہاں کی زندگی بھی مشکلات کے بیچ گھِری ہوئی ہے۔ دن بھر مشقت کے بعد جب شام ہوتی ہے، تو یہاں کے لوگ ایک نئی جدوجہد شروع کرتے ہیں۔کلثومہ کہتی ہیں کہ ’یہاں خواتین زیادہ پریشان ہیں، کیونکہ دن میں چولہے کا دھواں ہوتا ہے اور رات میں پڑھائی کے وقت مشعل کا دھواں انھیں بیمار کر دیتا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ گاؤں سے باہر جاتے ہی انہیں احساس ہوتا ہے کہ وہ انسانی تہذیب کا حصہ نہیں ہیں۔جب ہم کپواڑہ مارکیٹ میں جاتے ہیں تو لوگوں کو سمارٹ فون پر مصروف پا کر ہمیں کمتری کا احساس ہوتا ہے، کسی رشتہ دار کے یہاں جاتے ہیں تو وہاں ہیٹر، بوائلر، گیزر وغیرہ دیکھ کر ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے لیے وقت اُدھر ہی رُک گیا جب انسان آگ سے ہی کھانا پکاتا تھا اور آگ سے ہی رات میں روشنی کرتا تھا۔
’ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں۔‘