آپریشن مڈنائٹ ہیمر کا ہدف ایٹمی اثاثے تھے، ایران نےحملہ کیا تو بھرپور طاقت سے جواب دیں گے، امریکا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
امریکی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ہم نے واضح کرتے ہیں دنیا کو امریکا کے صدر ٹرمپ کی بات سننا ہوگی، ہم نے ایران کا ایٹمی پروگرام مکمل تباہ کردیا اور اگر جوابی کارروائی ہوئی تو اس سے زیادہ طاقت سے جواب دیا جائے گا۔
واشنگٹن میں امریکی وزیردفاع اورایئرفورس چیف نے مشترکہ میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام اور جوہری سائٹس کو تباہ کردیا، امریکا بار بارکہتا رہا کہ ایران کوجوہری ہتھیارحاصل کرنے نہیں دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے حملہ کیا تو بھرپور اور گزشتہ رات سے زیادہ سخت جواب دیں گے۔ وزیردفاع نے کہا کہ امریکا نے بات چیت کیلئے60 روز دیئے مگر تہران نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ آپریشن میں شریک ہراہلکار نےبہترین کام کیا، امریکی آپریشن میں کسی ایرانی فوجی یا شہری کونقصان نہیں پہنچا، صرف ایرانی جوہری تنصیبات پرحملے کیے۔
امریکی وزیردفاع نے کہا کہ بی ٹوبمبار نے تاریخ کا سب سے بڑاحملہ کیا ہے اور اس کو مڈ نائٹ ہیمر کا نام دیا گیا ہے اور یہ خفیہ مشن تھا۔ ہم خود کا دفاع کریں گے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ایران کے جوہری عزائم خاک میں مل چکے ہیں، صدرٹرمپ امن چاہتے ہیں اور ایران کو ٹرمپ کی بات مان کر امن کے راستے پر چلنا ہوگا۔ ایران پرامریکی حملے کا مقصد حکومت کی تبدیلی نہیں ہے۔
امریکی وزیردفاع نے کہا کہ ایران پرحملے کومڈنائٹ ہیمرکانام دیاگیا۔
امریکی جنرل ڈین کین نے بتایا کہ ایران پرامریکی حملہ انتہائی خفیہ مشن تھا صرف چند لوگ واقف تھے، ایران کے ہونے والے نقصانات کے حوالے سے ابھی تک ہمیں کوئی معلومات نہیں کہ ایران نے نہ ہی آپریشن کے دوران کسی قسم کی مزاحمت کی۔
پینٹاگون حکام نے کہا کہ اصفہان کی جوہری تنصیب کوٹام ہاک میزائلوں سےنشانہ بنایا، ایرانی ریڈار امریکی جہازوں کو پکڑنے میں ناکام رہے جبکہ ہم نے ایران کی تینوں ایٹمی سائٹس کو بھرپورنقصان پہنچایا ہے۔
امریکی جنرل نے کہا کہ ہم امریکی فوج اورمشرق وسطیٰ میں امریکا کامکمل تحفظ کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔