یمنی مسلح افواج کی جانب سے ہفتے کے روز جاری کیے گئے ایک سرکاری فوجی بیان کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں غزہ، لبنان، شام اور دیگر عرب و اسلامی ممالک پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی گئی تھی۔ اسلام ٹائمز۔ یمن نے باضابطہ طور پر ایران کے ساتھ اسرائیل اور امریکا کے خلاف جنگ میں شمولیت کا اعلان کردیا۔ تہران ٹائمز کے مطابق یمنی مسلح افواج کے ترجمان، بریگیڈیئر جنرل یحییٰ ساری نے اپنے ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک بیان کے ذریعے یہ اعلان کیا، یمن باضابطہ طور پر (امریکا اور اسرائیل کے خلاف) جنگ میں داخل ہو رہا ہے، اپنے بحری جہازوں کو ہمارے علاقائی پانیوں سے دور رکھیں۔ یہ بیان یمنی مسلح افواج کی جانب سے ہفتے کے روز جاری کیے گئے ایک سرکاری فوجی بیان کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں غزہ، لبنان، شام اور دیگر عرب و اسلامی ممالک پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی گئی تھی۔

اس بیان میں خبردار کیا گیا تھا کہ صہیونی حکومت امریکا کی مکمل حمایت سے پورے خطے کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ یمنی مسلح افواج کے ترجمان کی جانب سےجنگ میں ایران کا ساتھ دینے کا باضابطہ اعلان ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ خیال رہے کہ گذشتہ شب امریکا نے، ایران اسرائیل جنگ میں شامل ہوتے ہوئے ایران کی جوہری تنصیبات پر بمباری کی تھی۔ حملے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں اعلان کیا تھا کہ امریکا نے ایران میں فردو، نطنز اور اصفہان جوہری تنصیبات پر انتہائی کامیاب حملہ مکمل کر لیا ہے۔
   

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: یمنی مسلح افواج کے بعد

پڑھیں:

امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔

منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔

سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان