data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ جنگ نہیں بلکہ ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف اقدامات کر رہا ہے، امریکا نے ایران کا جوہری پروگرام بڑی حد تک تباہ کر دیا ہے اور مستقبل میں اس کے مکمل خاتمے کے لیے کام جاری رکھے گا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا ایران سے سفارتی تعلقات بحال کرنے اور مفاہمت پر مبنی طویل المدتی معاہدہ چاہتا ہے،صدر ٹرمپ نے ایران کو مذاکرات کا موقع دیا اور ہمیں ایران کی طرف سے بالواسطہ پیغامات موصول ہوئے مگر ایران کی جانب سے کسی مثبت پیش رفت کا فقدان رہا۔

جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ امریکا کی ایران میں زمینی افواج تعینات کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں، تاہم اگر ایران کی طرف سے جوابی حملہ کیا گیا تو امریکا مکمل طور پر تیار ہے،ہم ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں چاہتے، نہ ہی ایرانی عوام کے خلاف ہیں، ہمارا ہدف صرف ایران کے جوہری عزائم ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ رات امریکی فوج نے ایران کی تین اہم جوہری تنصیبات فردو، نطنز اور اصفہان  پر بنکر بسٹر GBU-57 بموں اور ٹاماہاک کروز میزائلوں سے حملے کیے، یہ حملہ خفیہ مشن “آپریشن مڈنائٹ ہیمر” کے تحت کیا گیا جس میں 125 سے زائد جنگی طیارے اور ایک آبدوز نے حصہ لیا۔

حملے کے بعد امریکا نے دعویٰ کیا کہ ایران کا جوہری پروگرام تقریباً تباہ کر دیا گیا ہے، ایران نے تاحال اس دعوے کی مکمل تصدیق نہیں کی۔

واضح رہے کہ  ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ حملے سے قبل ہی جوہری تنصیبات خالی کرا لی گئی تھیں اور جانی نقصان سے بچاؤ کے اقدامات کر لیے گئے تھے۔ تاہم ایران نے حملے کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے شدید ردعمل کا مطالبہ کیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جوہری پروگرام ایران کے ایران کی

پڑھیں:

امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے متعلق نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو ایکسچینجز پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ دوسری طرف ایرانی خبر ایجنسی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا کے مجوزہ حتمی منصوبے پر اب تک کوئی جواب نہیں بھیجا ہے۔

مہر نیوز کی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی مجوزہ منصوبے پر ایران میں بات چیت جاری ہے، امریکی تجویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایرانی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی کے تجربات کی بنیاد پر، ایران ٹھوس اور حقیقی فوائد حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان