بھارت سندھ طاس معاہدہ مان لے یا جنگ کیلئے تیار رہے: بلاول بھٹو زرداری
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بھارت کے لیے 2 آپشن ہیں، یا سندھ طاس معاہدہ مان لے، اگر وہ نہیں مانتا، ڈیمز اور کینال نکالے تو پاکستان جنگ کرے گا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اللّٰہ نے پاکستان کو بھارت پر ملٹری کامیابی، بیانیے کی کامیابی اور سفارتی کامیابی دی، ہم جنگ جیت چکے تھے، ہمارے خطے میں امن نہ ہونا پاکستان اور بھارت کے عوام کے حق میں نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے خطے میں نیتن یاہو کی سستی کاپی ہے، ہماری کمیٹی نے پاکستان کا مؤقف اور بیانیہ پیش کیا، جہاں ہم گئے پیچھے سستی کاپی والے بھی پہنچے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ ہم نے کشمیر کا مسئلہ اٹھایا، گزشتہ حکومت میں 2019ء میں کشمیر پر حملہ ہوا، اس وقت کے وزیراعظم نے کہا تھا میں کیا کروں؟ کیا میں بھارت کے ساتھ جنگ چھیڑ دوں، اس وقت کے وزیراعظم نے اٹھ کر کہا تھا میں کیا کروں، فخر سے کہتا ہوں اس بار جب پاکستان پر حملہ ہوا تو پاکستان ڈرا نہیں، جھکا نہیں، ہم نے جنگ کی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گزشتہ حکومت کا ردعمل تھا کہ بعد نماز جمعہ کھڑے ہو کر کشمیر کے لیے آواز اٹھائیں گے، اس حکومت کا ردعمل تھا کہ بھارت کا جہاز گرائیں، ان کو مجبور کریں، بانی پی ٹی آئی کی حکومت میں بھارت کہتا تھا کہ کشمیر ہمارا اندرونی معاملہ ہے، اب کشمیر ایک بین الاقوامی معاملہ بن گیا ہے، یہ ہماری کامیابی ہے کہ اندرونی معاملہ بین الاقوامی معاملہ بن چکا ہے۔
جھوٹ کی بنیاد پر ایران پر حملہ کیا گیا: بلاول بھٹو زرداریانہوں نے کہا کہ جھوٹ کی بنیاد پر ایران پر حملہ کیا گیا، ایران کی نیوکلیئر سائٹس پر حملوں کی سخت مذمت کرتے ہیں، اسرائیل نے جھوٹ کی بنیاد پر ایران پر حملہ کیا، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی گئی، ایران کی ملٹری قیادت کو جنگ کے میدان میں نہیں بلکہ ان کے گھر میں ٹارگٹ کیا گیا، ایرانی سائنسدانوں کو ٹارگٹ کیا، سب سے بڑی خلاف ورزی ایران کی نیوکلیئر تنصیبات پر حملہ ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ایران میں ایٹمی تنصیبات پر حملے میں اگر اخراج ہوتا تو سارے خطے خصوصاً پاکستان پر اثرات ہوتے، کل امریکا نے ایران کی ایٹمی سائٹ پر حملہ کیا، امریکا کے لوگ اس جنگ کی حمایت نہیں کرتے۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلے یہی عراق بارے کہا گیا اور اب ایران کے بارے میں کہا کہ ان کے پاس ویپن آف ماس ڈسٹرکشن ہیں، ہم ایران پر امریکا کے حملے کی مذمت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین میں اکتوبر سے لے کر اب تک نسل کشی ہو رہی ہے، پہلے وہ لبنان آئے، یمن آئے اور اب ایران آگئے، اگر ہم اب نہ بولے تو جب وہ ہم پر آئیں گے تو کوئی بولنے والا نہیں ہو گا، اسرائیل کی رجیم کو روکنا ہو گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بلاول بھٹو زرداری پر حملہ کیا نے کہا کہ ایران پر ایران کی تھا کہ
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔