شیو سینا کے لیڈر نے کہا کہ جب ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی تھی تو ٹرمپ نے جنگ بندی کا پورا کریڈٹ خود لے لیا، لیکن اب وہ اسرائیل کی حمایت میں انکے ساتھ کھڑے ہوگئے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ میں اب امریکہ بھی براہ راست شامل ہوگیا ہے۔ امریکہ نے ہفتہ کی رات ایران کے 3 ایٹمی مقامات پر زبردست بمباری کی۔ اسرائیل کی حمایت میں ایران کے خلاف اٹھائے گئے امریکہ کے اس اقدام پر شیو سینا (یو بی ٹی) کے لیڈر سنجے راؤت نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کئی تلخ سوال بھی پوچھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب "اسرائیل ایران کے درمیان جنگ" ہو رہی ہے تو ڈونلڈ ٹرمپ کو اس میں کودنے کی کیا ضرورت تھی۔ نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے سنجے راؤت نے کہا کہ اگر ایران اسرائیل کے درمیان جنگ جاری تھی تو امریکی صدر ٹرمپ کو مداخلت کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔ سنجے راؤت نے کہا کہ ٹرمپ خود اس میں شامل ہوگئے اور ایران پر حملے کا حکم بھی دے دیا۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ جب ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی تھی تو ٹرمپ نے جنگ بندی کا پورا کریڈٹ خود لے لیا، لیکن اب وہ اسرائیل کی حمایت میں ان کے ساتھ کھڑے ہو گئے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ تب ٹرمپ ہمارے ساتھ کیوں نہیں کھڑے ہوئے۔ سنجے راؤت نے مزید کہا کہ نوبل انعام پانے کے لئے ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر کو اپنے وہائٹ ہاؤس میں ظہرانہ پر بلایا۔ انہوں نے کہا "ہماری جنگ تو آپ نے رکوا دی، لیکن ایران کے پاس ایٹمی بم ہے یہ بول کر آپ اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہوگئے اور ایران پر بمباری کرنے لگے، مسٹر ٹرمپ آپ ہمارے ساتھ کیوں نہیں کھڑے ہوئے"۔ انہوں نے کہا "یہ نریندر مودی اور ان کی حکومت کو سوچنا چاہیئے، ٹرمپ آپ کو الو بنا رہے ہیں اور آپ بن رہے ہیں"۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا اسرائیل کی کے درمیان ساتھ کھڑے نے کہا کہ ایران کے رہے ہیں

پڑھیں:

’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔

قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔

بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم