ایران نے مختلف ادوار میں کن بڑی طاقتوں کا مقابلہ کیا؟ اہم تاریخی تفصیلات جانیے
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
ایران نے مختلف ادوار میں کن بڑی طاقتوں کا مقابلہ کیا،اس حوالے سے اہم تاریخی تفصیلات سامنے آئی ہیں ۔
ہزاروں سال پرانی تاریخ، ثقافت اور روایات رکھنے والی ایرانی قوم نے مختلف ادوار میں بڑی طاقتوں کا مقابلہ کیا جبکہ حالیہ جنگ میں اسرائیل کے محفوظ ترین ہونے کا زعم بھی خاک میں ملا دیا۔ایران، مشرقِ وسطیٰ میں سعودی عرب کے بعد دوسرا بڑا ملک ہے، جو 9 کروڑ 20 لاکھ افراد کے ساتھ دنیا کا ساتواں بڑی آبادی والا ملک ہے۔ایران کی زیادہ تر آبادی مغربی شہروں تہران، مشہد اور اصفہان میں رہتی ہے، زیادہ لوگ ملک کے مغربی نصف حصے میں آباد ہیں، جہاں پہاڑی سلسلے، زرخیز وادیاں اور دریائی علاقے ہر چشم نظارہ کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔96 لاکھ آبادی پر مشتمل تہران ایران کا دارالخلافہ اور سب سے بڑا شہر ہے، 6 ہزار سال پرانا شہر تہران الروز پہاڑوں کے نیچے واقع ہے۔ایران کا دوسرا بڑا شہر شمال مشرق میں واقع مشہد ہے، جس کی آبادی 34 لاکھ ہے اور جو 1 ہزار 2 سو سال پرانا شہر ہے، مذہب اور ثقافت کے مرکز مشہد میں امام رضاؒ کا روضہ ہے، جہاں ہر سال لاکھوں زائرین آتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق بلوچستان کے مختلف اضلاع میں کارروائیوں کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا۔ اسلام ٹائمز۔ آئی ایس پی آر کے مطابق 24 مئی ٹرین حادثے کے بعد سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کئے، آپریشن کا سلسلہ مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں شروع کیا گیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق کارروائیوں کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، شدید فائرنگ کے تبادلے میں ہندوستانی پراکسی فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، دھماکہ خیز مواد اور دیسی ساختہ بم بھی برآمد ہوئے، ہلاک دہشت گرد علاقے میں دہشت گرد کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہے، عزمِ استحکام کے تحت انسداد دہشتگردی مہم پوری قوت سے جاری رہے گی، ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کا خاتمہ کیا جائے گا۔