آئی ایم ایف نے این ایف سی ایوارڈ کیلئے تکنیکی معاونت کی پیشکش کر دی
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) آئی ایم ایف نے حکومت کو نئے این ایف سی ایوارڈ میں تکنیکی معاونت کی پیشکش کر دی۔ نئے این ایف سی فارمولے میں آبادی کا حصہ کم جب کہ تعلیم، صحت اور ٹیکس وصولی جیسے عوامل کو شامل کرنے پر غورکیا جا رہا ہے۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق فنڈ نے پیشکش وفاقی اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کے نیا فارمولا تیار کرنے کی کوششوں کی تناظر میں کی ہے۔ ذرائع کے مطابق این ایف سی کمیشن کے اجلاس کیلئے 18 نومبر کی تاریخ تجویز کی گئی ہے۔ حکام وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ ملک میں کئی آبادیاتی و ساختی تبدیلیاں واقع ہو چکی ہیں۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان فارمولے پر ازسرنو مشاورت کی تجویز زیرغور ہے، مجوزہ نئے این ایف سی ایوارڈ میں آبادی کا حصہ 82 فیصد سے کم کرنے کی تجویز ہے۔ وفاقی اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم میں تعلیم، صحت اور ٹیکس وصولی جیسے عوامل شامل کرنے پر غور جاری ہے۔ 24 کروڑ 15 لاکھ سے زائد آبادی کو نئے فارمولے کی بنیاد بنانے کی تجویز ہے۔ کارکردگی اور ماحولیاتی اقدامات پر وسائل کی تقسیم کا نیا فارمولا بھی زیرغور ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
نائب وزیر اعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان آسیان ریجنل فورم کے ذریعے علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے لیے پرعزم ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھا ہوا ہے۔
فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے وزارتی اجلاس سے خطاب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہو ئے ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ جموں و کشمیرکے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویش ناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔
اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے لیے غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔