آئی ایم ایف نے این ایف سی ایوارڈ کیلئے تکنیکی معاونت کی پیشکش کر دی
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) آئی ایم ایف نے حکومت کو نئے این ایف سی ایوارڈ میں تکنیکی معاونت کی پیشکش کر دی۔ نئے این ایف سی فارمولے میں آبادی کا حصہ کم جب کہ تعلیم، صحت اور ٹیکس وصولی جیسے عوامل کو شامل کرنے پر غورکیا جا رہا ہے۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق فنڈ نے پیشکش وفاقی اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کے نیا فارمولا تیار کرنے کی کوششوں کی تناظر میں کی ہے۔ ذرائع کے مطابق این ایف سی کمیشن کے اجلاس کیلئے 18 نومبر کی تاریخ تجویز کی گئی ہے۔ حکام وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ ملک میں کئی آبادیاتی و ساختی تبدیلیاں واقع ہو چکی ہیں۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان فارمولے پر ازسرنو مشاورت کی تجویز زیرغور ہے، مجوزہ نئے این ایف سی ایوارڈ میں آبادی کا حصہ 82 فیصد سے کم کرنے کی تجویز ہے۔ وفاقی اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم میں تعلیم، صحت اور ٹیکس وصولی جیسے عوامل شامل کرنے پر غور جاری ہے۔ 24 کروڑ 15 لاکھ سے زائد آبادی کو نئے فارمولے کی بنیاد بنانے کی تجویز ہے۔ کارکردگی اور ماحولیاتی اقدامات پر وسائل کی تقسیم کا نیا فارمولا بھی زیرغور ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔