کے ایم سی کا 55 ارب روپے کا بجٹ برائے 26-2025 منظور، ترقیاتی منصوبوں کے لیے کتنی رقم مختص؟
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے مالی سال 26-2025 کے لیے 55 ارب 28 کروڑ 36لاکھ اور 6 ہزارروپے کے بجٹ کی منظوری دے دی گئی۔
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے سٹی کونسل کے اجلاس میں کے ایم سی کا مالی سال 26-2025 کا (سرپلس) بجٹ منظوری کے لیے پیش کیا جس میں 146.2 ملین روپے اضافی دکھائے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کے ایم سی میں 950 گھوسٹ اور 200 ملازمین کا 2 مقامات پر نوکری کا انکشاف
بجٹ تجاویز پیش کرتے ہوئے میئر کراچی نے کہا کہ چییئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے مجھے جو ذمے داری سونپی تھی میں نے اس کو پورا کیا اور پارٹی کی خواہش کے مطابق شہر کے مسائل حل کیے جسے شہریوں نے بھی سراہا۔
میئر کراچی کا کہنا تھا کہ بلدیہ کی تاریخ میں پہلی بار سیلری سسٹم کو ایپ پر منتقل کیا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ماضی کے میئر اور ڈپٹی میئر نے جو جعلی بھرتیاں کیں وہ بھی ختم کردی گئیں۔
مزید پڑھیے: میونسپل ٹیکس کا نفاذ شہری حکومت کا حق ہے، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ادارے کا مکمل آڈٹ کرکے شفافیت لائی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میونسپل ٹیکس میں پہلے جو رقم آتی تھی وہ کم تھی اور ماضی میں بلدیہ عظمیٰ کا ٹیکس ریکوری سسٹم انتہائی کمزور تھا لیکن اب ہر فیس، ٹیکس اور ادائیگی کو ڈیجیٹل کر رہے ہیں اور بلدیاتی ملازمین کو تنخواہوں اور پینشن کی ادائیگی بروقت ہوا کرے گی۔
ترقیاتی منصوبےمئیر کراچی نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کی مد میں 20 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
گزشتہ کارکردگی بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایمپریس مارکیٹ میٹ سیکشن اپ گریڈ، 129 اسٹالز تعمیر کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ایمپریس مارکیٹ میں 300 گاڑیوں کی گنجائش والا پارکنگ ایریا قائم کیا گیا، 14 اسپتالوں و ڈسپنسریوں کے ذریعے شہریوں کو طبی سہولیات فراہم کی گئیں اور یوسی گرانٹ 5 لاکھ سے بڑھا کر 12 لاکھ کردی گئی۔
میئر مرتضیٰ وہاب کے مطابق کونسل اجلاس میں شرکت پر 2 ہزار روپے فی ممبر ٹی اے ڈی اے منظور کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: اہل کراچی جلد خوشخبری سنیں گے، میئرکراچی مرتضیٰ وہاب
اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈووکیٹ نے اجلاس میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ میئر مرتضیٰ وہاب کا یہ 5واں بجٹ ہے، سابق ڈسٹرکٹ ناظم نعمت اللہ خان مرحوم کے دور میں ہر کونسل ممبر کو ٹی اے ڈی اے کی مد میں 10 ہزار روپے ملتے تھے لیکن اب کونسل کے ممبر کو 2 ہزار روپے ملیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بلدیہ عظمیٰ کراچی بجٹ کے ایم سی بجٹ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلدیہ عظمی کراچی بجٹ کے ایم سی بجٹ میئر کراچی مرتضی وہاب میئر کراچی کے ایم سی نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔