اسلام آباد میں منعقدہ حجاج کانفرنس میں سعودی عرب کی حجاج کرام کے لیے خدمات کو بھرپور انداز میں خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی حجاج کو بے مثال سہولتیں، مکہ مکرمہ میں قائم فیسلٹیشن سینٹر میں 3 ہزار شکایات کا ازالہ

اسلام آباد میں ’حجاج بیت اللہ کی خدمت، سعودی عرب اور پاکستان کا شاندار کردار‘ کے عنوان سے ایک اہم بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں علمائے کرام، وفاقی وزرا، اراکینِ پارلیمنٹ اور مختلف مذہبی و سیاسی جماعتوں کے قائدین نے شرکت کی۔

یہ علمی و فکری نشست جمعیت اہلِ حدیث مرکزیہ کے زیرِ اہتمام اور مجلسِ یکجہتی پاکستان و سعودی عرب کے تعاون سے منعقد کی گئی۔

کانفرنس کی صدارت ڈاکٹر حافظ عبد الکریم نے کی، جبکہ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف اور پاکستان میں سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی مہمانانِ خصوصی تھے۔

شرکا نے حج 2025 کے مثالی انتظامات پر مملکتِ سعودی عرب کی قیادت کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ مقررین نے کہا کہ سعودی حکومت نے حرمین شریفین کی خدمت جس خلوص، ترتیب اور وسعتِ فکر سے کی ہے، وہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے باعثِ فخر ہے۔

تقریب میں پاکستان و سعودی عرب تعلقات کی تاریخی، مذہبی اور روحانی بنیادوں کو اجاگر کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا گیا کہ دونوں ممالک کا باہمی تعلق صرف سیاسی نہیں، بلکہ عقیدہ، تاریخ اور امتِ واحدہ کے تصور پر استوار ہے، جسے مزید مضبوط بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی حجاج کرام کی وطن واپسی جاری، مزید 4995 حجاج کی آمد متوقع

کانفرنس کے اختتام پر جاری اعلامیے میں سعودی عرب کی دینی خدمات اور امتِ مسلمہ کے لیے اس کی قیادت کے کردار کو سراہا گیا، اور حج و عمرہ کے شعبے میں پاکستان اور سعودی عرب کے مابین ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینے پر زور دیا گیا۔

تقریب کے اختتام پر سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور حرمین شریفین کے تمام خدمت گزاروں کے لیے نیک تمناؤں اور دعا کا اظہار کیا گیا، پاکستان کی مذہبی قیادت نے سعودی انتظامات کو امتِ مسلمہ کے لیے قابلِ تقلید قرار دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بین الاقوامی کانفرنس پاکستان حج خادمین حرمین شریفین سعودی عرب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بین الاقوامی کانفرنس پاکستان خادمین حرمین شریفین ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے لیے

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے