Islam Times:
2026-07-24@06:11:14 GMT

قرارداد 2231 اپنے مقررہ وقت پر ختم ہو جانی چاہیئے، ایران

اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT

قرارداد 2231 اپنے مقررہ وقت پر ختم ہو جانی چاہیئے، ایران

سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کیساتھ خطاب میں اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر و مستقل نمائندے نے تاکید کی ہے کہ ایران اس قرارداد کی ختم شدہ شقوں کو، کسی بھی عنوان کے تحت بحال کرنیکی کسی بھی کوشش کو سختی کیساتھ مسترد کرتا ہے! اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر و مستقل نمائندے امیر سعید ایروانی نے آج قرارداد 2231 حوالے سے منعقدہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں اہم خطاب کیا ہے۔ اپنے خطاب میں امیر سعید ایروانی نے اسرائیلی جارحیت کے خاتمے، جنگ بندی کے قیام اور کشیدگی میں کمی کے لئے کامیاب سفارتی کوششوں پر قطری حکومت کا شکریہ ادا کیا تاہم، اس اجلاس میں اسرائیلی وفد کی موجودگی پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کا قرارداد 2231 سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی مشترکہ جامع پلان آف ایکشن (JCPOA) سے۔
  امیر سعید ایروانی نے 2018ء میں امریکہ کی جانب سے ایرانی جوہری معاہدے (JCPOA) سے یکطرفہ دستبرداری اور ایران کے خلاف پابندیاں عائد کئے جانے کو قرارداد 2231 کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا اور زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے تمام ذمہ داریوں کی مکمل پاسداری کی ہے، جبکہ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے نہ صرف ایرانی جوہری معاہدے بلکہ قرارداد 2231 کی بھی مسلسل خلاف ورزیاں کی ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور جوہری توانائی ایجنسی کے قواعد کی کھلم کھلا خلاف ورزیوں کی نشاندہی بھی کی کہ جن میں، ایران کی پرامن جوہری تنصیبات، عام شہریوں اور بنیادی انفرا اسٹرکچر پر اسرائیل و امریکہ کے حارجابہ حملے بھی شامل ہیں۔
امیر سعید ایروانی نے اسرائیل کو خطے کی واحد خفیہ ایٹمی ریاست قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ نہ ہی عدم جوہری پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کا رکن ہے اور نہ ہی عالمی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے معائنے کو قبول کرتا ہے، جبکہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو مکمل شفافیت کے ساتھ سخت ترین نگرانی کے تحت جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے، اسرائیل و امریکہ کے جارحانہ حملوں کی مذمت میں اپنی ناکامی کے ذریعے، اپنے کردار کو انتہائی کمزور بنایا ہے۔ اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر نے اقوام متحدہ کی جانب سے اپنائے گئے دوہرے معیارات کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور زور دیتے ہوئے کہا کہ مغربی طاقتیں خود جوہری ہتھیار رکھتی ہیں مگر ایران کے پرامن جوہری پروگرام کو خطرہ قرار دیتی ہیں۔ 
  انہوں نے کہا کہ قرارداد 2231 اپنی معینہ مدت پر ختم ہو جانی چاہیئے جبکہ اسلامی جمہوریہ ایران، اس کی تمام شدہ شقوں کو دوبارہ لاگو کرنے کی کسی بھی قسم کی کوشش کو سختی کے ساتھ مسترد کرتا ہے۔ انہوں نے جوہری معاہدے کی مکمل پاسداری کی یقین دہانی کرواتے ہوئے تاکید کی کہ ایران کے جوابی اقدامات مکمل طور پر قانونی تھے جو توازن برقرار رکھنے کے لئے انجام پائے ہیں۔ امیر سعید ایروانی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے اس جنگ کا آغاز نہیں کیا بلکہ جارحیت کا دفاعی جواب دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران اپنی خودمختاری کے خلاف کسی بھی نئے خطرے کا قانونی دائرۂ کار میں رہتے ہوئے فیصلہ کن جواب دے گا۔ انہوں نے تاکید کی کہ ایران کی پرامن جوہری تنصیبات پر مہلک حملے ناکام رہے ہیں اور ایران آج پہلے سے زیادہ سفارتی حل کے قریب پہنچ چکا ہے۔ اپنے خطاب کے آخر میں اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے نے سینکڑوں بے گناہ شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا اور اپنے موقف کو ایک مرتبہ پھر دہراتے ہوئے کہا کہ اس بحران کا واحد حل سنجیدہ سفارتکاری اور بامعنی مذاکرات ہیں!

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ میں ایران امیر سعید ایروانی نے ایران کے کہ ایران انہوں نے کسی بھی

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

نیویارک (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا۔اپنے سوشل میڈیا اکانٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔

ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جانے والے ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ ان میں یورینیم کی افزودگی نہ کی جائے۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کا معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونا مشرق وسطی میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔

ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کو اسرائیل کی جانب سے شدید نقصان پہنچانیکے بعد اب امن کے دائرے کو مزید وسیع کرنیکا ایک نیا موقع پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدیکا کوئی ذکر نہیں کیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع اگلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی