Islam Times:
2026-06-03@06:42:18 GMT

قرارداد 2231 اپنے مقررہ وقت پر ختم ہو جانی چاہیئے، ایران

اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT

قرارداد 2231 اپنے مقررہ وقت پر ختم ہو جانی چاہیئے، ایران

سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کیساتھ خطاب میں اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر و مستقل نمائندے نے تاکید کی ہے کہ ایران اس قرارداد کی ختم شدہ شقوں کو، کسی بھی عنوان کے تحت بحال کرنیکی کسی بھی کوشش کو سختی کیساتھ مسترد کرتا ہے! اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر و مستقل نمائندے امیر سعید ایروانی نے آج قرارداد 2231 حوالے سے منعقدہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں اہم خطاب کیا ہے۔ اپنے خطاب میں امیر سعید ایروانی نے اسرائیلی جارحیت کے خاتمے، جنگ بندی کے قیام اور کشیدگی میں کمی کے لئے کامیاب سفارتی کوششوں پر قطری حکومت کا شکریہ ادا کیا تاہم، اس اجلاس میں اسرائیلی وفد کی موجودگی پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کا قرارداد 2231 سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی مشترکہ جامع پلان آف ایکشن (JCPOA) سے۔
  امیر سعید ایروانی نے 2018ء میں امریکہ کی جانب سے ایرانی جوہری معاہدے (JCPOA) سے یکطرفہ دستبرداری اور ایران کے خلاف پابندیاں عائد کئے جانے کو قرارداد 2231 کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا اور زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے تمام ذمہ داریوں کی مکمل پاسداری کی ہے، جبکہ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے نہ صرف ایرانی جوہری معاہدے بلکہ قرارداد 2231 کی بھی مسلسل خلاف ورزیاں کی ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور جوہری توانائی ایجنسی کے قواعد کی کھلم کھلا خلاف ورزیوں کی نشاندہی بھی کی کہ جن میں، ایران کی پرامن جوہری تنصیبات، عام شہریوں اور بنیادی انفرا اسٹرکچر پر اسرائیل و امریکہ کے حارجابہ حملے بھی شامل ہیں۔
امیر سعید ایروانی نے اسرائیل کو خطے کی واحد خفیہ ایٹمی ریاست قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ نہ ہی عدم جوہری پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کا رکن ہے اور نہ ہی عالمی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے معائنے کو قبول کرتا ہے، جبکہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو مکمل شفافیت کے ساتھ سخت ترین نگرانی کے تحت جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے، اسرائیل و امریکہ کے جارحانہ حملوں کی مذمت میں اپنی ناکامی کے ذریعے، اپنے کردار کو انتہائی کمزور بنایا ہے۔ اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر نے اقوام متحدہ کی جانب سے اپنائے گئے دوہرے معیارات کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور زور دیتے ہوئے کہا کہ مغربی طاقتیں خود جوہری ہتھیار رکھتی ہیں مگر ایران کے پرامن جوہری پروگرام کو خطرہ قرار دیتی ہیں۔ 
  انہوں نے کہا کہ قرارداد 2231 اپنی معینہ مدت پر ختم ہو جانی چاہیئے جبکہ اسلامی جمہوریہ ایران، اس کی تمام شدہ شقوں کو دوبارہ لاگو کرنے کی کسی بھی قسم کی کوشش کو سختی کے ساتھ مسترد کرتا ہے۔ انہوں نے جوہری معاہدے کی مکمل پاسداری کی یقین دہانی کرواتے ہوئے تاکید کی کہ ایران کے جوابی اقدامات مکمل طور پر قانونی تھے جو توازن برقرار رکھنے کے لئے انجام پائے ہیں۔ امیر سعید ایروانی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے اس جنگ کا آغاز نہیں کیا بلکہ جارحیت کا دفاعی جواب دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران اپنی خودمختاری کے خلاف کسی بھی نئے خطرے کا قانونی دائرۂ کار میں رہتے ہوئے فیصلہ کن جواب دے گا۔ انہوں نے تاکید کی کہ ایران کی پرامن جوہری تنصیبات پر مہلک حملے ناکام رہے ہیں اور ایران آج پہلے سے زیادہ سفارتی حل کے قریب پہنچ چکا ہے۔ اپنے خطاب کے آخر میں اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے نے سینکڑوں بے گناہ شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا اور اپنے موقف کو ایک مرتبہ پھر دہراتے ہوئے کہا کہ اس بحران کا واحد حل سنجیدہ سفارتکاری اور بامعنی مذاکرات ہیں!

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ میں ایران امیر سعید ایروانی نے ایران کے کہ ایران انہوں نے کسی بھی

پڑھیں:

صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) صدر مملکت آصف علی زرداری نے اٹلی کے صدر سرجیو میتاریلا اور اٹلی کے عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد دیتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ آنے والے برسوں میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان دوطرفہ تعلقات مزید فروغ پائیں گے۔

(جاری ہے)

منگل کو ایوانِ صدر کے پریس ونگ کے مطابق صدر مملکت نے اپنے تہنیتی پیغام میں کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ اپنے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے جو کہ باہمی اعتماد، تعاون اور امن و خوشحالی کے لیے مشترکہ عزم پر مبنی ہیں۔

انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ آنے والے برسوں میں یہ دوطرفہ تعلقات مزید فروغ پائیں گے۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اپنے روابط کو بہت اہمیت دیتا ہے اور بین الاقوامی تعاون، مذاکرات اور امن و استحکام کے فروغ کے لیے یورپی یونین میں اٹلی کے تعمیری کردار کو انتہائی سراہتا ہے۔ انہوں نے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

متعلقہ مضامین

  • 99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت