کوئٹہ ،موٹرسائیکل ،رکشا ،بس میں تصادم ،5 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کوئٹہ(نمائندہ جسارت) کوئٹہ میں آتش گیر مادے سے لدے موٹر سائیکل لوڈر رکشا اور لوکل بس میں تصادم کے نتیجے میں آ گ بھڑکھنے سے 5 افراد جاں بحق جبکہ 7 زخمی ہو گئے۔تفصیلات کے مطابق افسوسناک واقعہ مغبی بائی پاس پر کلی خزاں کے مقام پر پیش آیا ہے۔ جہاں سڑک کنارے کھڑی لوکل بس کو آتش گیر مادے سے لدے موٹر سائیکل لوڈر رکشا نے ٹکر مار دی۔حادثے کے باعث بس اور موٹر سائیکل لوڈر رکشا میں آگ بھڑک اٹھی۔آگ کے شعلوں کی زد میں آکر 5 افراد جھلس کر جاں بحق جبکہ 7زخمی ہو گئے۔اطلاع ملنے پر پولیس اور امدادی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر لاشوں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا۔ پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت ڈی این اے کے ذریعے کی جائے گی۔پولیس حکام کا کہنا ہے واقعہ لوڈر رکشا ڈرائیور کی غفلت کے باعث پیش آیا۔ واقعے کے بعد بس اور لوڈر رکشا ڈرائیور فرار ہو گئے۔ جن کی تلاش جاری ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان اور ترجمان صوبائی حکومت نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی ہے۔دوسری جانب کوئٹہ میں موٹر سائیکل سوار افراد نے فائرنگ کرکے ایک شخص کو قتل کردیا۔ملزمان فرار ہو گئے۔واقعہ بروری روڈ پر پیش آیا جہاں نامعلوم موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے ایک شخص کو قتل کردیا۔اطلاع ملنے پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش اسپتال منتقل کردی۔ جہاں مقتول کی شناخت محمد بلال کے نام سے ہوئی ہے جو میڈیسن سپلائی کا کام کرتا تھا۔ڈاکٹروں نے ضروری کارروائی کے بعد میت لواحقین کے حوالے کردی۔پولیس نے ابتدائی تحقیقات میں واقعے کو ٹارگٹ کلنگ قرار د یا ہے۔ نا معلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے مزید کارروائی شروع کردی گئی ہے۔دریں اثنا میڈیسن ایسوسی ایشن نے محمد بلال کے قتل کے خلاف آج احتجاج کا اعلان کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: موٹر سائیکل لوڈر رکشا ہو گئے
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک