اسلام آباد(نیوز ڈیسک)مختلف سوشل میڈیا ویب سائٹس پر اس وقت ایک ویڈیو کافی وائرل ہو رہی ہے جس میں 1000 روپے کا نیا کرنسی نوٹ دکھایا جا رہا ہے۔ اور یہ بھی دکھایا جا رہا ہے کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے 1000 روپے کا یہ نیا کرنسی نوٹ جاری کیا گیا ہے۔

دوسری طرف سوشل میڈیا ہی پر ایک صارف نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ نوٹ انہوں نے 2024 میں ڈیزائن کیا تھا۔ اور اس ڈیزائن کو گزشتہ 24 گھنٹوں میں پاکستان میں 10 ملین سے زیادہ بار دیکھا جا چکا ہے۔ لوگ اسے ٹک ٹاک پر کافی تیزی سے شیئر کر رہے ہیں۔

1000 کے کرنسی نوٹ کی تصویر جس کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ یہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے جاری کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہونے والی ویڈیو پر عوام کی جانب سے یہ تشویش پائی جا رہی ہے کہ کیا واقعی یہ نیا کرنسی نوٹ ہے؟

اس حوالے سے جب نجی خبررساں ادارے نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے رابطہ کیا تو انہوں نے اس خبر کی مکمل طور پر تردید کی۔

Viral New 1000 Rupees Currency Note – State Bank of Pakistan

I want to clarify that this note was designed by me in 2024, and it is not real — it’s a fake note.

This design has been viewed over 10 million times in Pakistan in the last 24 hours. People are sharing it on TikTok. pic.twitter.com/BbpFPrL6KC

— Ali Usama (@BlogsbyUsama) June 21, 2025


اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دکھایا جانے والا کرنسی نوٹ بالکل جعلی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق، اگر نیا کرنسی نوٹ جاری کیا جاتا تو اس کی باقاعدہ تشہیر کی جاتی، سرکاری ویب سائٹ اور سوشل میڈیا چینلز پر اس سے متعلق معلومات فراہم کی جاتیں، اور میڈیا کے ذریعے عوام کو آگاہ کیا جاتا۔ لہٰذا عوام کو ایسے مواد سے گمراہ ہونے سے بچنا چاہیے۔

اسٹیٹ بینک نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ اور جھوٹی معلومات پر یقین نہ  کیا کریں اور کسی بھی کرنسی نوٹ سے متعلق خبر کی تصدیق صرف اسٹیٹ بینک کے آفیشل ذرائع سے کریں۔

واضح رہے کہ سوشل میڈٰیا صارف جنہوں نے اس چیز کا دعویٰ کیا کہ انہوں نے یہ نوٹ 2024 میں ڈیزائن کیا تھا، یہ بھی بتایا کہ یہ نوٹ جعلی ہے۔
مزیدپڑھیں:نواز شریف مری پہنچ گئے، کشمیر پوائنٹ کی رہائش گاہ میں قیام، مریم نواز کا بھی دورہ متوقع

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: نیا کرنسی نوٹ سوشل میڈیا اسٹیٹ بینک

پڑھیں:

روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ

طالبان حکومت اور روس کے درمیان حالیہ سفارتی و سیکیورٹی روابط کے تناظر میں افغان سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے، جہاں متعدد صارفین اور سیاسی مبصرین طالبان کے بانی ملا عمر کی سوویت یونین کے خلاف جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کے روس کے ساتھ تعلقات کو موضوعِ بحث بنا رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی مختلف پوسٹس، تبصروں اور سیاسی خاکوں میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملا عمر نے افغانستان کی آزادی اور خودمختاری کے لیے سوویت افواج کے خلاف طویل جدوجہد کی تھی، جبکہ آج ان کے صاحبزادے اور طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا محمد یعوقب روس کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں۔ ناقدین اس صورتحال کو ’تاریخی تضاد‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا موجودہ پالیسی طالبان کی ماضی کی جدوجہد سے مطابقت رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بہت ہوگیا، اب افغان طالبان کی تجاویز نہیں حل چاہیے، اور حل ہم نکالیں گے: ڈی جی آئی ایس پی آر

سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ایک تحریر میں کہا گیا ہے کہ سوویت جنگ کے دوران ہزاروں افغان شہری جانوں سے گئے، دیہات تباہ ہوئے اور کئی نسلیں جنگ کے اثرات کا شکار رہیں۔ اس تناظر میں بعض حلقے روس کے ساتھ بڑھتے تعلقات پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا افغانستان اپنی تاریخ کے تلخ اسباق کو فراموش کر رہا ہے۔

بعض پوسٹس میں طالبان حکومت اور روس کے درمیان مبینہ سیکیورٹی تعاون کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق روس اور طالبان کے درمیان عسکری شعبے میں روابط بڑھ رہے ہیں، تاہم ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ طالبان حکام بھی اس حوالے سے مختلف مواقع پر یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ان کے خارجہ تعلقات قومی مفادات اور موجودہ علاقائی ضروریات کے مطابق استوار کیے جا رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی طاقتوں کی رقابتوں کا مرکز رہا ہے۔ سوویت یونین کے انخلا، امریکی مداخلت اور بعد ازاں طالبان کی واپسی کے بعد خطے کی جغرافیائی سیاست میں مسلسل تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ایسے میں طالبان حکومت کی روس، چین اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ بڑھتی قربت کو بعض ماہرین ایک سفارتی ضرورت قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین اسے ماضی کے نظریاتی مؤقف سے انحراف کے طور پر دیکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان ہماری تجاویز سے متفق مگر تحریری معاہدہ کرنے پر تیار نہیں، رانا ثنااللہ

دوسری جانب طالبان کے حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی تعلقات مستقل دشمنی یا دوستی کے بجائے قومی مفادات کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ افغانستان کو معاشی استحکام، سفارتی روابط اور علاقائی تعاون کی ضرورت ہے، جس کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات ناگزیر ہیں۔

افغان سوشل میڈیا پر جاری اس بحث نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ بدلتے عالمی حالات میں نظریاتی جدوجہد اور عملی سیاست کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔ ملا عمر کی تاریخی جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کی سفارتی حکمت عملی کے درمیان موازنہ آنے والے دنوں میں بھی سیاسی اور عوامی حلقوں میں زیر بحث رہنے کا امکان ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • اسٹاک ایکسچینج پر فروخت کا دباؤ برقرار، منفی زون میں ٹریڈنگ جاری
  • رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے ٹیکسوں میں بڑی کمی اور فائلر کیلیےبڑے ریلیف  کی تجاویز
  • ڈیٹا لیک ہونے کی خبریں؛ہائر ایجوکیشن کمیشن کی وضاحت آگئی
  • انتقال کی خبریں بے بنیاد،طاہرہ سید نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا
  • طاہرہ سید کے انتقال کی افواہیں، گلوکارہ کا ویڈیو پیغام سامنے آگیا
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت