حکومتِ پاکستان کی جانب سےچپکے سے 1000 روپے کا نیا نوٹ جاری کرنیکی خبریں ،حقیقت کیاہے؟
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)مختلف سوشل میڈیا ویب سائٹس پر اس وقت ایک ویڈیو کافی وائرل ہو رہی ہے جس میں 1000 روپے کا نیا کرنسی نوٹ دکھایا جا رہا ہے۔ اور یہ بھی دکھایا جا رہا ہے کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے 1000 روپے کا یہ نیا کرنسی نوٹ جاری کیا گیا ہے۔
دوسری طرف سوشل میڈیا ہی پر ایک صارف نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ نوٹ انہوں نے 2024 میں ڈیزائن کیا تھا۔ اور اس ڈیزائن کو گزشتہ 24 گھنٹوں میں پاکستان میں 10 ملین سے زیادہ بار دیکھا جا چکا ہے۔ لوگ اسے ٹک ٹاک پر کافی تیزی سے شیئر کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہونے والی ویڈیو پر عوام کی جانب سے یہ تشویش پائی جا رہی ہے کہ کیا واقعی یہ نیا کرنسی نوٹ ہے؟
اس حوالے سے جب نجی خبررساں ادارے نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے رابطہ کیا تو انہوں نے اس خبر کی مکمل طور پر تردید کی۔
Viral New 1000 Rupees Currency Note – State Bank of Pakistan
I want to clarify that this note was designed by me in 2024, and it is not real — it’s a fake note.
This design has been viewed over 10 million times in Pakistan in the last 24 hours. People are sharing it on TikTok. pic.twitter.com/BbpFPrL6KC
— Ali Usama (@BlogsbyUsama) June 21, 2025
اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دکھایا جانے والا کرنسی نوٹ بالکل جعلی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق، اگر نیا کرنسی نوٹ جاری کیا جاتا تو اس کی باقاعدہ تشہیر کی جاتی، سرکاری ویب سائٹ اور سوشل میڈیا چینلز پر اس سے متعلق معلومات فراہم کی جاتیں، اور میڈیا کے ذریعے عوام کو آگاہ کیا جاتا۔ لہٰذا عوام کو ایسے مواد سے گمراہ ہونے سے بچنا چاہیے۔
اسٹیٹ بینک نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ اور جھوٹی معلومات پر یقین نہ کیا کریں اور کسی بھی کرنسی نوٹ سے متعلق خبر کی تصدیق صرف اسٹیٹ بینک کے آفیشل ذرائع سے کریں۔
واضح رہے کہ سوشل میڈٰیا صارف جنہوں نے اس چیز کا دعویٰ کیا کہ انہوں نے یہ نوٹ 2024 میں ڈیزائن کیا تھا، یہ بھی بتایا کہ یہ نوٹ جعلی ہے۔
مزیدپڑھیں:نواز شریف مری پہنچ گئے، کشمیر پوائنٹ کی رہائش گاہ میں قیام، مریم نواز کا بھی دورہ متوقع
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: نیا کرنسی نوٹ سوشل میڈیا اسٹیٹ بینک
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔