اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 15 سالہ فلسطینی لڑکا شہید
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
فلسطینی وزارت صحت نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز مغربی کنارے کے علاقے جنین کے قریب ایک 15 سالہ لڑکے کو گولی مار کر شہید کر دیا۔ یہ گزشتہ تین دنوں میں دوسرا فلسطینی کم عمر شہید ہے۔
وزارت صحت نے ایک بیان میں بتایا کہ ’ریان تامر حوشیہ‘ نامی لڑکے کو گردن میں گولی لگی، جو کہ شمال مغربی جنین کے قصبے الیامون میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ کا نشانہ بنا۔
فلسطینی ہلال احمر کے مطابق واقعے کے فوری بعد ان کی ٹیم نے 'انتہائی نازک حالت' میں ایک نوجوان کو طبی امداد دی، تاہم کچھ دیر بعد اس کی شہادت کی تصدیق کر دی گئی۔
اسرائیلی فوج نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ الیامون میں پیش آئے واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ مغربی کنارے میں حالیہ مہینوں میں اسرائیلی کارروائیوں میں شدت آئی ہے، جہاں آئے روز نوجوان فلسطینیوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔