اسرائیلی فوجی ٹیکنالوجی پر سائبر اٹیک، خفیہ معلومات افشا
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
ایرانی نیم سرکاری نیوز پلیٹ فارم ’تسنیم‘ کے مطابق ایک مزاحمتی سائبر یونٹ نے اسرائیل کی دو جدید ترین فوجی ٹیکنالوجیوں سے متعلق خفیہ دستاویزات جاری کر دی ہیں، جس سے اس ٹیکنالوجی پر اسرائیلی اجارہ داری ختم ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیل مخالف گروپ کا صیہونی انفراسٹرکچر پر سائبر حملوں کا اعلان
رپورٹ کے مطابق ’سائبر سپورٹ فرنٹ‘ نامی گروہ نے ایک مربوط سائبر حملے کے بعد حاصل کردہ دستاویزات شائع کی ہیں، جن میں اسرائیل کے دو اہم فوجی نظاموں کی تفصیلات شامل ہیں۔
پہلا نظام HattoriX ہے، جو زمین سے ہدف تلاش کرنے اور دور مار حملوں کے لیے معلومات اکٹھی کرنے والا جدید ری کنائسنس (reconnaissance) نظام ہے۔
دوسرا نظام SPIKE-LR2 ہے، جو پانچویں نسل کا کثیرالمقاصد، درست نشانے پر مار کرنے والا میزائل نظام ہے، جو جدید جنگی حالات کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سائبر اٹیک جنگی صورتحال کو کتنا سنگین بنا سکتا ہے؟
یہ دونوں نظام اسرائیلی عسکری صنعتی ادارے CR Casting / EXACT نے تیار کیے تھے، جو معروف کمپنیوں رافیل اور البٹ سسٹمز کے ٹھیکے پر کام کرتے ہیں۔
عسکری ماہرین کے مطابق یہ نظام حالیہ دنوں میں غزہ، لبنان اور ایران کے خلاف کارروائیوں میں استعمال کیے گئے۔
سائبر سپورٹ فرنٹ نے CR Casting / EXACT کے صنعتی نیٹ ورک میں دراندازی کے بعد مکمل ڈیٹا بیس حاصل کیا اور افشا کیا۔ اس کارروائی کو اسرائیلی فوجی-صنعتی ڈھانچے کو کمزور کرنے کی وسیع مہم کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پرھیں:پاکستان کا بڑا سائبر اٹیک، اہم بھارتی سائٹس اور ہزاروں سرویلنس کیمرے ہیک
اس سے قبل یہی گروہ BenSimon ایلومینیم انڈسٹریز پر بھی حملہ کر چکا ہے، جو اسرائیلی وزارتِ جنگ اور فوج کے ساتھ منسلک ایک اہم ادارہ ہے۔ وہاں تمام آپریشنل سسٹمز کو ناکارہ بنا دیا گیا اور حساس معلومات چرالی گئیں، جن میں اسرائیل کی بدنام زمانہ سائبر یونٹ یونٹ 8200 سے متعلق تفصیلات بھی شامل تھیں۔
رپورٹ کے مطابق حاصل شدہ معلومات مزاحمتی گروہوں کے میزائل یونٹس کو منتقل کر دی گئی ہیں تاکہ وہ میدان جنگ میں ان کا استعمال کر سکیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل رافیل پر بھی سائبر حملے ہو چکے ہیں، جس کے باعث بعض فعال فوجی نظاموں میں خرابیاں پیدا ہوئیں۔
یہ بھی پڑھیں:عالمی سائبر کرائم نیٹ ورک سے منسلک کارندے گرفتار، درجنوں ویب سائٹس بلاک
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کے دفاعی نظام میں موجود خامیوں کے باعث مزید سائبر حملوں کے امکانات بڑھ گئے ہیں، اور آنے والے دنوں میں مزید شدید حملے متوقع ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل ایران سائبر اٹیک سائبر حملہ سائبر سپورٹ فرنٹ فوجی ٹیکنالوجی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل ایران سائبر اٹیک سائبر حملہ سائبر سپورٹ فرنٹ فوجی ٹیکنالوجی سائبر اٹیک کے مطابق یہ بھی
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
پاکستان سمیت 8 عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف میں اسرائیلی اشتعال انگیز اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل سے فوری طور پر ان اقدامات کو روکنے اور عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں اسرائیل کی حالیہ اشتعال انگیزی اور کشیدگی میں اضافے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں انتہا پسند اسرائیلی وزراء کی قیادت میں یہودی آبادکاروں کی مسلسل اجتماعی دراندازی، مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانا، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنا اور دیگر اشتعال انگیز اقدامات نہایت خطرناک اور ناقابل قبول ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی انتہا پسند وزراء اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ میں دراندازی پر اکسانے اور تشدد پر مبنی بیانات کی بھی شدید مذمت کی۔ اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یروشلم کے قدیم شہر اور اس کے مذہبی مقامات تک رسائی پر پابندیاں، خصوصاً مسلمانوں اور دیگر عبادت گزاروں کے ساتھ امتیازی سلوک، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ایک غیرقانونی کوشش ہیں۔
وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل بطور قابض طاقت مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے منظم اقدامات کر رہا ہے، جو اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور حیثیت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔
آٹھوں ممالک نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس حیثیت کے تحفظ پر زور دیا۔ اعلامیے میں مقدس مقامات کی نگرانی کے حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35 ایکڑ) رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ مزید کہا گیا کہ اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جو مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے معاملات کا مجاز ہے۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بطور قابض طاقت فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر میں عائد تمام پابندیاں ختم کرے، مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے سے باز آئے اور مقدس مقامات کے تقدس کا احترام کرے۔
مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری غیرقانونی اقدامات اور خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کے لیے واضح، مضبوط اور مؤثر موقف اختیار کرے، تاکہ مقدس مقامات کی حرمت اور تاریخی حیثیت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں