اسلام آباد:

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کی فیصلہ کن قیادت کی وجہ سے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی ہوئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ٹیلی فون رابطہ کیا۔ اس دوران وزیر اعظم نے صدر ٹرمپ کی باہمت  اور فیصلہ کن قیادت کو سراہا جس کی وجہ سے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی ہوئی۔

انہوں نے پاک بھارت جنگ بندی میں امریکہ کے کلیدی کردار پر سیکرٹری روبیو کا شکریہ بھی ادا کیا۔ 

وزیراعظم اور سیکرٹری خارجہ روبیو نے پاک امریکا تعلقات کو مضبوط بنانے اور خاص طور پر  تجارت  بڑھانےکے لیے مل کر کام جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ 

مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔

ان کوششوں کو سراہتے ہوئے سیکرٹری روبیو نے کہا کہ امریکا خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

ٹرمپ کا ایران سے تحریری وعدے کا مطالبہ!

امریکی ذرائع کے مطابق، بین الاقوامی معاہدوں پر "انتہائی کم عمر دستخط" کے حامل انتہاء پسند امریکی صدر نے اس بار تہران سے "موجودہ تعطل پر قابو پانے کیلئے" تحریری عزم کا مطالبہ کیا ہے اسلام ٹائمز۔ امریکی حکام نیز ایک باخبر ذریعے سے نقل کرتے ہوئے امریکی چینل اے بی سی نیوز نے انکشاف کیا ہے کہ انتہاء پسند امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خواہش ظاہر کی ہے کہ تہران اس مرتبہ، "امریکہ کے ساتھ ابتدائی معاہدے" کے طور پر، مخصوص جوہری رعایتیں تحریری انداز میں پیش کرے۔ اے بی سی کے ذرائع نے تفصیلات فراہم کئے بغیر دعوی کیا کہ ایرانی مذاکراتکاروں نے پہلے زبانی طور پر اس بات کی ضمانت دی تھی کہ تہران بالآخر اپنے "جوہری پروگرام" سے متعلق کچھ شرائط پر راضی ہو جائے گا لیکن امریکی صدر نے جمعے کے روز سیچویشن روم میں ہونے والی ملاقات میں یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ وعدے کافی مضبوط نہیں۔

ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منگل کے روز سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنی رپورٹنگ کے سیشن کے دوران کسی بھی معاہدے پر پہنچنے سے قبل، ایران سے ٹرمپ انتظامیہ کی توقعات کی تفصیلات بتائی ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے دیگر اہلکاروں کی طرح ایران کے لئے گوناگوں شرائط بیان کرتے ہوئے، واشنگٹن کی جانب سے تہران کو دی جانے والی مراعات کے بارے مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ تفصیلات، اور اسی طرح تہران کے لئے مالی مراعات کا تعین بھی بعد میں کیا جائے گا۔ انتہاء پسند امریکی صدر سے نقل کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ مثال کے طور پر، اُنہیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم افزودہ یورینیم کو ضائع کر دیں گے.. اور اب سوال یہ ہے کہ ایسا کرنے کا طریقہ کار کیا ہے؟.. اور یہ بات مذاکرات کے قابل ہے!

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کا ایران سے تحریری وعدے کا مطالبہ!
  • امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف