زرمبادلہ کے ذخائر میں گزشتہ ہفتے نمایاں کمی ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(کامرس رپورٹر) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کہا ہے کہ بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی وجہ سے گزشتہ ہفتے کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں کمی ہوگئی ہے جبکہ رواں ہفتے کے دوران 3 ارب ڈالر سے زاید کے قرض موصول ہوگئے ہیں۔ اسٹیٹ بینک سے جاری اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران 2 ارب 65 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کے بیرونی قرضوں کی
ادائیگی کی گئی۔ مرکزی بینک نے بتایا کہ زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر 20 جون کو 9 ارب 6 کروڑ 45 لاکھ ڈالر کی سطح پر آگئے اور زرمبادلہ میں آنے والی یہ کمی کمرشل غیرملکی قرضوں کی ادائیگی کی وجہ سے واقع ہوئی ہے۔اعلامیے میں کہا گیا کہ رواں ہفتے کے دوران 3 ارب 10 کروڑ ڈالر کے کمرشل قرضے اور 50 کروڑ ڈالر کے ملٹی لیٹرل قرضے موصول ہوئے ہیں تاہم یہ رقم 27 جون کو جاری ہونے والے اعدادوشمار میں شامل ہوں گے۔اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر 14 ارب 39 کروڑ 74 لاکھ ڈالر کی سطح پر آگئے ہیں، جن میں سے کمرشل بینکوں کے پاس 5 ارب 33 کروڑ 29 لاکھ ڈالر کے ذخائر موجود ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہفتے کے دوران زرمبادلہ کے لاکھ ڈالر ڈالر کے
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔