اسرائیل کو ایران سے جنگ کتنی مہنگی پڑی؟ اعداد وشمار سامنے آگئے
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
ایران کے ساتھ 12 روزہ جنگ بندی کے نتیجے میں اسرائیل ایک ممکنہ اقتصادی زوال سے بال بال بچ گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ جنگ طول پکڑتی، تو صرف 2 ماہ میں اسرائیل کو غزہ میں ہونے والی 2 سالہ اقتصادی لاگت کے برابر خسارہ برداشت کرنا پڑتا۔
یہ بھی پڑھیں:ایران اسرائیل جنگ کا دوبارہ امکان نہیں، تہران سے اگلے ہفتے معاہدہ ہو سکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی ثالثی میں طے پانے والی جنگ بندی نے بحران کے دھانے پر کھڑے اسرائیل کو وقتی ریلیف فراہم کیا، حالانکہ ملک کی وفاقی حکومت ایک ایسے مالی بوجھ سے دوچار تھی جو کسی بڑے معاشی مندی کا پیش خیمہ بن سکتا تھا۔
اس جنگ کے باعث شہری زندگی بری طرح متاثر ہوئی۔ سیاحت اور کاروباری سرگرمیاں رُک گئیں، یہاں تک کہ معروف ہوٹل چین ’ڈین ہوٹلز‘ نے اپنی نصف شاخیں بند کر دیں۔
اس کے علاوہ بندرگاہوں کی سیکیورٹی متاثر ہوئی اور میرسک جیسی عالمی شپنگ کمپنی نے حیفا پورٹ کے قریب حملے کے بعد اپنی نقل و حرکت روک دی۔
اس جنگ سے سپلائی چین بری طرح متاثر ہوئی اور مغربی کنارے میں ایندھن اور ضروری اشیائے خوردونوش کی کمی نے جنم لیا۔
یہ بھی پڑھیں:موساد کے سربراہ کا ایران کیخلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان
معاشی دباؤ نے عام شہریوں کو بھی مجبور کر دیا کہ وہ تعطیلات منسوخ کریں، غیر ضروری اخراجات کم کریں اور مہنگائی کے بوجھ تلے مزید دب جائیں۔
اسرائیل کی معیشت پر جنگ کے اخراجات بھاری پڑے۔ صرف ابتدائی 2 دنوں میں 1.
ان اخراجات نے ملک کے دفاعی بجٹ کو 2024 میں 49.4 ارب ڈالر تک پہنچا دیا، جو کل فوجی اخراجات کا 8.4 فیصد بنتا ہے۔
اس کے ساتھ ہی قومی قرضہ بڑھ کر 370 ارب ڈالر تک جا پہنچا، جو کہ مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا تقریباً 69 فیصد ہے، یہ سطح کووڈ-19 کے بعد کی بلند ترین سطحوں میں سے ایک شمار ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران پر پابندیاں یا مذاکرات؟ ٹرمپ کا دوہرا پیغام سامنے آ گیا
ماہرین کے مطابق یہ جنگ زیادہ دیر جاری نہیں رہ سکتی تھی۔ مشرقِ وسطیٰ کے معروف اقتصادی تجزیہ کار ناصر عبد الکریم کا کہنا ہے کہ اگر یہ جنگ جاری رہتی تو اسرائیلی معیشت مستقل دباؤ سے باہر نہ نکل پاتی، اور ممکن تھا کہ عوامی احتجاج میں شدت آ جاتی۔
اُن کے مطابق یہ حقیقت بھی مدنظر رہنی چاہیے کہ اسرائیل کے اندرونی حالات پہلے ہی معاشی بہتری سے مشروط تھے، اور مزید عدم استحکام پورے معاشرتی نظام کو ہلا کر رکھ سکتا تھا۔
جنگ بندی ایک ایسے وقت پر عمل میں آئی جب اسرائیلی معیشت مکمل تباہی کے دہانے پر کھڑی تھی۔ اگرچہ سنیما، ہوٹل اور تجارت جیسے کئی شعبے بری طرح متاثر ہوئے، لیکن جنگ بندی نے وقتی طور پر ملک کو مالی بحران سے بچا لیا۔
اب اسرائیل کے لیے اصل چیلنج اقتصادی توازن کی بحالی ہے، کیونکہ موجودہ نقصان نے بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور مقامی منڈیوں کے اعتماد کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل اسرائیلی معیشت ایران ایران اسرائیل جنگ ٹرمپ جنگ بندی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل اسرائیلی معیشت ایران ایران اسرائیل جنگ
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔