اوساکا ایکسپو کے چائنا پویلین میں 6 لاکھ سے زائد غیر ملکیوں کی شرکت
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
اوساکا ایکسپو کے چائنا پویلین میں 6 لاکھ سے زائد غیر ملکیوں کی شرکت WhatsAppFacebookTwitter 0 27 June, 2025 سب نیوز
ٹوکیو:چائنا کونسل فار پروموشن آف انٹرنیشنل ٹریڈ کی ترجمان وانگ لن جئے نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ اوساکا ورلڈ ایکسپو میں چائنا پویلین کے افتتاح کے بعد سے یہ اوساکا ورلڈ ایکسپو میں مقبول ترین پویلینز میں سے ایک رہا ہے، جس میں روزانہ اوسطا تقریباً 10 ہزار افراد اس کا دورہ کرتے ہیں، اور بعض دنوں میں یہ تعداد 13 ہزار تک بھی پہنچ جاتی ہے۔ اب تک مجموعی طور پر دنیا بھر سے 6 لاکھ سے زائد افراد نے اس چائنا پویلین کا وزٹ کیا ہے۔
ترجمان وانگ لن جئَے نے کہا کہ یہ نہ صرف چائنا پویلین کی دلچسپی اور دلکشی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ چین کی بہترین روایتی ثقافت کے سپر انٹرنیشنل اثر و رسوخ اور نئے دور میں معاشی اور سماجی ترقی میں چین کی تاریخی کامیابیوں کی بھی عکاسی کرتا ہے۔11 جولائی کو چین کا قومی پویلین ڈے بھی منایا جائے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسمر ڈیووس فورم کا مقصد کھلے پن کے مشترکہ پیغام کو فروغ دینا تھا، چینی میڈیا سمر ڈیووس فورم کا مقصد کھلے پن کے مشترکہ پیغام کو فروغ دینا تھا، چینی میڈیا سی ایم جی کی دستاویزی فلم’’ٹسکانی ٹریول اِن اے نیور اینڈنگ رینیسانس ‘‘اٹلی میں ریلیز اے آئی آئی بی کے ارکان کی تعداد 57 سے بڑھ کر 110 تک پہنچ گئی ہے، چینی وزیر اعظم چین اٹلی کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 55ویں سالگرہ منانے کے لیے خصوصی آرٹ نمائش کا روم میں انعقاد چین اٹلی سفارتی تعلقات کے قیام کی 55ویں سالگرہ منانے کے لیے چائنا میڈیا گروپ کے زیر اہتمام افرادی و ثقافتی تقریب کا انعقاد چیلنجز سے نمٹنے کےلیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے، چینی وزیر اعظمCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔