ویسٹ انڈیز کے اسٹار کرکٹر پر 11 خواتین سے جنسی زیادتی کا الزام
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کے ایک اسٹار پر 11 خواتین نے جنسی زیادتی اور ہراسانی جیسے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
اسٹار کرکٹر پر الزامات کیا ہیں؟ویسٹ انڈیز کی معروف اسپورٹس ویب سائٹ اسپورٹس میکس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، گیانا سے تعلق رکھنے والے اور ویسٹ انڈیز کی قومی کرکٹ ٹیم کے موجودہ رکن کے خلاف 11 خواتین نے الزامات عائد کیے ہیں کہ اس نے انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ متاثرین میں ایک کم عمر لڑکی بھی شامل ہے۔ تاہم ابھی تک کوئی باضابطہ قانونی کارروائی یا مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے کرکٹر بابراعظم پرمبینہ جنسی زیادتی کا مقدمہ، جج نے نیا حکم جاری کردیا
الزامات عائد کرنے والی زیادہ تر خواتین کے مطابق، انہیں جنسی تعلق پر مجبور کیا گیا یا انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا گیا۔
مبینہ پردہ پوشی کی کوششیںرپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ کرکٹر کے خلاف الزامات پر پردہ ڈالنے اور اس معاملے کو دبانے کی کوششیں بھی کی گئیں۔
ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ کی خاموشیاسپورٹس میکس ٹی وی نے جب اس معاملے پر ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ سے رابطہ کیا تو بورڈ کے صدر کیشور شالو کا کہنا تھا کہ ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ کو اس معاملے کی تفصیلات کا علم نہیں، لہٰذا وہ اس پر فی الحال کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے۔
یہ بھی پڑھیے سری لنکن کرکٹر ’دانشکا گونا تھیلاکا‘ ریپ الزامات سے بری
یہ کرکٹر کون ہے؟ گیانا کے معروف وکیل نائجل ہیوز نے شناخت ظاہر کرنے سے انکار کیا تاہم یہ اشارہ دیا کہ یہ کھلاڑی جنوری 2024 میں آسٹریلیا کے خلاف تاریخی ٹیسٹ فتح کے بعد گیانا واپس آیا تو یہاں اسے ہیرو کا درجہ دیا گیا تھا۔
ابتدائی رپورٹاس معاملے کی ابتدائی رپورٹ گیانا کے ایک مقامی اخبار میں شائع ہوئی۔ وکیل کا کہنا تھا ’میں نے کم از کم 11 خواتین سے ذاتی طور پر یہ واقعات سنے ہیں، جن میں ایک نوعمر لڑکی بھی شامل ہے۔ ان سب نے کرکٹر کی جانب سے جنسی زیادتی یا ناجائز حرکات کا الزام لگایا ہے۔‘
Guys! This incredibly concerning and disconcerting.
— T (@teecha_) June 26, 2025
کوئی گرفتاری یا ایف آئی آر تاحال نہیںوکیل نائجل ہیوز کا کہنا ہے کہ ابھی تک کسی بھی متاثرہ فریق کی جانب سے پولیس میں شکایت درج نہیں کرائی گئی۔ تاہم ان دنوں میں اس حوالے سے تحقیقات یا سوالات دوبارہ شروع ہونے کے اشارے ملے ہیں۔
تجزیہ کار فکرمند ہیں کہ اگر الزامات میں صداقت ہے تو یہ واقعہ ویسٹ انڈیز کرکٹ کے لیے ایک سنگین اخلاقی بحران بن سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جنسی زیادتی ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جنسی زیادتی ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم ویسٹ انڈیز کرکٹ جنسی زیادتی اس معاملے کیا گیا
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔