وزیراعظم کا سیلابی ریلے میں سیاحوں کی اموات پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 27 جون2025ء)وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے دریائے سوات میں خوازہ خیلہ کے مقام پر سیلابی ریلے میں سیاحوں کی اموات پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے لاپتہ افراد کی جلد تلاش مکمل کر نے کی ہدایت کی ہے ۔
(جاری ہے)
جاری اعلامیہ کے مطابق وزیرِ اعظم نے جاں بحق ہونے والے افراد کی مغفرت اور ان کے اہل خانہ کیلئے صبر کی دعا کرتے ہوئے واقعہ میں لاپتہ افراد کی جلد تلاش مکمل کرنے کی ہدایت کی ۔
وزیراعظم نے این ڈی ایم اے ، انتظامیہ و ریسکیو اداروں کو دریاؤں و ندی نالوں کے قریب حفاظتی تدابیر مزید مربوط بنانے کی ہدایت کی ۔وزیرِ اعظم نے سوات میں سیلابی ریلے کے نتیجے میں پھنسے ہوئے سیاحوں کو ریسکیو کرنے پراین ڈی ایم اے ، انتظامیہ و ریسکیو حکام کی پزیرائی۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک