سوات حادثہ، سیاح پانی میں کیسے ڈوبے، عینی شاہد نے پوری صورتحال بیان کردی
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
آج دریائے سوات میں آنے والے سیلابی ریلے کے باعث 17 افراد بہہ گئے۔ ریسکیو 1122 اور مقامی افراد نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے 4 افراد کو بچا لیا، جبکہ 13 افراد لاپتا ہو گئے تھے، جن میں سے اب تک 9 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔ 4 افراد کی تلاش تاحال جاری ہے اور سرچ آپریشن کا دائرہ ملاکنڈ تک پھیلا دیا گیا ہے۔ ڈوبنے والے افراد کا تعلق ڈسکہ اور مردان سے بتایا گیا ہے۔
اس واقعے کی مختلف ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں جس میں سیاحوں کو دریا کے درمیان مدد کے انتظار میں کھڑے دیکھا جا سکتا ہے۔ اب واقعے کے عینی شاہدین کی ویڈیوز بھی سامنے آ رہی ہیں۔
ایک عینی شاہد نے بتایا کہ ’میں سامنے بیٹھا ہوا تھا جیسے ہی پانی آیا تو آوازیں آنا شروع ہو گئیں کہ لوگ دریا میں پھنسے ہوئے ہیں تو میں نے دیکھا ک 19 لوگ دریا کے درمیان میں کھڑے ہوئے تھے تو ہم نے دوسرے لوگوں کو فون کیا کہ ادھر آ جاؤ کیونکہ لوگ پھنسے ہوئے ہیں‘۔
عینی شاہد کا مزید کہنا تھا کہ ’ڈیڑھ گھنٹہ ہو گیا تھا کوئی نہیں آیا اور آدھے لوگ پانی میں ڈوب گئے اور ریسکیو والے افراد ڈیڑھ گھنٹے بعد مدد کو آئے تھے‘۔
سانحہ سوات کا چشم دید گواہ۔ ???? pic.
— Rai Saqib Wazir Kharal (@iRaiSaqib) June 27, 2025
ریسکیو کے ترجمان کے مطابق یہ افراد کچھ دیر قبل ہی سوات کے ایک ہوٹل میں پہنچے تھے، جہاں مختصر آرام کے بعد وہ دریا کے کنارے سیر کے لیے نکلے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بارشوں کے باعث صوبے میں سیلاب کا خدشہ پہلے سے موجود تھا، اور وہاں موجود مقامی افراد نے انہیں دریا کے کنارے جانے سے منع بھی کیا تھا، لیکن وہ نہ مانے۔ جب یہ سیاح دریا کے قریب گئے، اس وقت پانی کا بہاؤ کم تھا، تاہم اچانک ایک بڑا سیلابی ریلا آیا، جس کی زد میں یہ تمام افراد آ گئے۔
متاثرہ خاندان کے ایک فرد نے میڈیا کو بتایا کہ وہ ناشتے کے بعد فیملی کے ہمراہ دریا کے قریب گئے۔ ’بچے اور خواتین سیلفی لے رہے تھے کہ اسی دوران ریلہ آیا اور وہ درمیان میں پھنس گئے۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سوات سوات حادثہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سوات سوات حادثہ دریا کے
پڑھیں:
شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
چولپون آتا (کرغزستان): ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو موجودہ عالمی حالات میں ناگزیر قرار دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کرغزستان کے سیاحتی شہر چولپون آتا میں جاری اجلاس کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم اور اس جیسے دیگر کثیرالجہتی فورمز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیاں، ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور طاقت کا غیر قانونی استعمال بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔
اگرچہ اسماعیل بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات میں امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔
ایران 2023 میں شنگھائی تعاون تنظیم کا باقاعدہ رکن بنا تھا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک اہم یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک شامل ہیں۔
وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سربراہ اجلاس میں علاقائی سلامتی، تجارتی روابط، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔
We are in Cholpon-Ata, Kyrgyzstan, to participate in the meeting of the Council of Foreign Ministers of the Shanghai Cooperation Organization (SCO) Member States.
Iran attaches great importance to the SCO and similar multilateral arrangement, which represent a vital force for… pic.twitter.com/CCGd7mxcL8
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے میں سفارتی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔