آج دریائے سوات میں آنے والے سیلابی ریلے کے باعث 17 افراد بہہ گئے۔ ریسکیو 1122 اور مقامی افراد نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے 4 افراد کو بچا لیا، جبکہ 13 افراد لاپتا ہو گئے تھے، جن میں سے اب تک 9 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔ 4 افراد کی تلاش تاحال جاری ہے اور سرچ آپریشن کا دائرہ ملاکنڈ تک پھیلا دیا گیا ہے۔ ڈوبنے والے افراد کا تعلق ڈسکہ اور مردان سے بتایا گیا ہے۔

اس واقعے کی مختلف ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں جس میں سیاحوں کو دریا کے درمیان مدد کے انتظار میں کھڑے دیکھا جا سکتا ہے۔ اب واقعے کے عینی شاہدین کی ویڈیوز بھی سامنے آ رہی ہیں۔

ایک عینی شاہد نے بتایا کہ ’میں سامنے بیٹھا ہوا تھا جیسے ہی پانی آیا تو آوازیں آنا شروع ہو گئیں کہ لوگ دریا میں پھنسے ہوئے ہیں تو میں نے دیکھا ک 19 لوگ دریا کے درمیان میں کھڑے ہوئے تھے تو ہم نے دوسرے لوگوں کو فون کیا کہ ادھر آ جاؤ کیونکہ لوگ پھنسے ہوئے ہیں‘۔

عینی شاہد کا مزید کہنا تھا کہ ’ڈیڑھ گھنٹہ ہو گیا تھا کوئی نہیں آیا اور آدھے لوگ پانی میں ڈوب گئے اور ریسکیو والے افراد ڈیڑھ گھنٹے بعد مدد کو آئے تھے‘۔

سانحہ سوات کا چشم دید گواہ۔ ???? pic.

twitter.com/B8e6VH4gx7

— Rai Saqib Wazir Kharal (@iRaiSaqib) June 27, 2025

ریسکیو کے ترجمان کے مطابق یہ افراد کچھ دیر قبل ہی سوات کے ایک ہوٹل میں پہنچے تھے، جہاں مختصر آرام کے بعد وہ دریا کے کنارے سیر کے لیے نکلے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بارشوں کے باعث صوبے میں سیلاب کا خدشہ پہلے سے موجود تھا، اور وہاں موجود مقامی افراد نے انہیں دریا کے کنارے جانے سے منع بھی کیا تھا، لیکن وہ نہ مانے۔ جب یہ سیاح دریا کے قریب گئے، اس وقت پانی کا بہاؤ کم تھا، تاہم اچانک ایک بڑا سیلابی ریلا آیا، جس کی زد میں یہ تمام افراد آ گئے۔

متاثرہ خاندان کے ایک فرد نے میڈیا کو بتایا کہ وہ ناشتے کے بعد فیملی کے ہمراہ دریا کے قریب گئے۔ ’بچے اور خواتین سیلفی لے رہے تھے کہ اسی دوران ریلہ آیا اور وہ درمیان میں پھنس گئے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سوات سوات حادثہ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سوات سوات حادثہ دریا کے

پڑھیں:

10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ انتہائی آسان

پنجاب حکومت(Punjab government) کے اپنی چھت محفوظ چھت 2026 پروگرام کے تحت 5 اور 10 لاکھ روپے کے بِلا سود قرض فراہم کیے جا رہے ہیں۔

پنجاب حکومت نے لوگوں کو اپنے موجودہ گھر کی مرمت اور توسیع کے لیے اپنی چھت، محفوظ چھت (میری چھت، محفوظ چھت) اسکیم 2026 کا آغاز کیا ہے جس کے تحت 5 سے 10 لاکھ روپے تک کے بلاسود قرضے فراہم کیے جائیں گے۔

اس حکومتی منصوبے کے تحت قرض کے دو مختلف کٹیگریز میں دیے جائیں گے۔

وہ شہری جو اپنی موجودہ چھتوں کی مرمت یا گھر کے انفراسٹرکچر کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں 5 لاکھ روپے قرض دیا جائے گا جو انہیں 9 سال میں صرف 4،700 روپے ماہانہ قسط کی صورت ادا کرنا ہوگا۔

وہ شہری جو اپنے گھروں کی توسیع (دوسری منزل) کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں، انہیں 10 لاکھ روپے بلاسود قرض دیا جائے گا اور اس کی مدت واپسی بھی 9 سال ہے۔ اس قرض کی ماہانہ قسط 9،300 روپے ہوگی۔

مزیدپڑھیں:ریاست مخالف ٹوئٹ کیس: پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید اور فلک جاوید کے جیل ٹرائل کےلیے دائر درخواست خارج

آن لائن اپلائی کرنے کا طریقہ:

دلچسپی رکھنے والے شہری acag.punjab.gov.pk کے ذریعے اپنی چھت، محفوظ چھت لون سکیم کے لیے آن لائن درخواست دے سکتے ہیں۔ پروگرام کے لیے رجسٹر ہونے کے لیے انہیں اپنی اسناد داخل کرنے کی ضرورت ہے۔

درخواست دہندگان ہاتھ سے لکھی درخواست بھی جمع کرا سکتے ہیں۔

وہ لوگ کمپیوٹر استعمال نہیں کر سکتے وہ اپنی قرض کی درخواستیں ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز اور پنجاب ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ایجنسی کے دفاتر میں جمع کرائیں۔

متعلقہ مضامین

  • پی ڈی ایم اے کا دورہ : انتظامیہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہے، خواجہ سلمان رفیق
  • 10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ جانیے
  • 10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ انتہائی آسان
  • خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 28 افراد جاں بحق، 29 زخمی
  • چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار