دریائے سوات میں ایک ہی خاندان کے 18 افراد ڈوب گئے، 7 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سوات: قدرتی حسن سے مالا مال وادی سوات میں سیالکوٹ سے آئے ایک ہی خاندان کی سیر تفریح اچانک اندوہناک سانحے میں بدل گئی، جب دریائے سوات میں طغیانی کے باعث 18 افراد بہہ گئے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق مذکورہ خاندان دریا کے کنارے ناشتے میں مصروف تھا کہ اچانک بارش کے باعث دریا میں پانی کی سطح بلند ہوئی اور تیز بہاؤ نے دیکھتے ہی دیکھتے درجنوں افراد کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ صبح 8 بجے کے قریب حادثے کی اطلاع ملی، جس کے بعد فوری امدادی کارروائی شروع کر دی گئی۔ اب تک 3 افراد کو زندہ نکالا جا چکا ہے، جبکہ 7 افراد کی لاشیں دریا سے برآمد کرلی گئی ہیں، باقی لاپتا افراد کی تلاش جاری ہے۔
ڈپٹی کمشنر سوات نے جیو نیوز سے گفتگو میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ نے پہلے ہی دریا کے قریب جانے اور نہانے پر دفعہ 144 نافذ کر رکھی ہے، تاہم اس کے باوجود سیاح ان ہدایات کو نظر انداز کرتے ہیں، جو بعض اوقات جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔
حادثے سے متاثر ایک خاندان کے فرد نے نمائندہ جیو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے خاندان کے 10 افراد پانی میں بہہ گئے، جن میں سے صرف ایک خاتون کی لاش ملی ہے جبکہ 9 بچے اب تک لاپتا ہیں۔
انہوں نے غم و غصے سے کہا، “ہم دریا کنارے چائے پی رہے تھے، بچے قریب جا کر تصویریں کھنچوانے لگے، اُس وقت پانی کی سطح معمول پر تھی، مگر چند لمحوں میں تیز ریلہ آیا اور بچے بہہ گئے۔”
سیاح کا شکوہ تھا کہ ریسکیو ٹیموں کو اطلاع دی گئی، مگر وہ جائے وقوعہ پر ڈیڑھ سے دو گھنٹے کی تاخیر سے پہنچیں، اور یہ سانحہ اُن کی موجودگی میں پیش آیا۔ “بچے ان کی آنکھوں کے سامنے ڈوبتے رہے، لیکن کوئی انہیں بچا نہ سکا،” سیاح نے آبدیدہ ہو کر کہا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
لاہور: دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلاب آ گیا ۔ فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق ہیڈ قادر آباد پر پانی کی آمد 2 لاکھ 36 ہزار کیو سک تک پہنچ گئی ہے۔دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی پر درمیانےدرجے کا سیلاب ہے ۔پانی کا بہاؤ بڑھ کر 73 ہزار 635 کیو سک تک پہنچ گیا ۔اس کے علاوہ دریائے کابل میں نوشہرہ میں بدستور نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے جبکہ دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب ہیں۔بلوچستان میں سبی ڈویژن کے دریائے لہڑی میں ہیڈگوگی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 95 ہزار 913 کیو سک ریکارڈ کیا گیا ہے۔دوسر ی جانب سیالکوٹ میں دریائے چناب میں پھنسے تمام 5 افراد کو ریسکیوکرلیا گیا ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق پانچوں افراد کام کے لیے گئے تھے واپسی پر کشتی خراب ہوگئی تھیواضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشوں کے بعد بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا ہے۔بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد پاکستان میں بڑے سیلاب کا خدشہ ہے اور اس حوالے سے سیالکوٹ اور وزیرآباد کے علاقوں میں سیلابی صورتحال پر ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔