ملالہ نے اپنی زندگی سے متعلق کتاب کے اجرا کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
نوبیل امن انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے اپنی نئی کتاب "Finding My Way" کے رواں برس اکتوبر میں اجراء کا اعلان کر دیا۔
اس بات کا اعلان ملالہ یوسف زئی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ایک جذباتی پوسٹ میں کیا۔
ملالہ نے کتاب کے حوالے سے بتایا کہ میری نئی کتاب ‘Finding My Way’ ایک بکھری ہوئی، سچائی اور بعض اوقات تکلیف دہ حد تک مزاحیہ یادداشت پر مبنی ہے۔
نوبیل امن انعام یافتہ ملالہ نے مزید بتایا کہ یہ کتاب دوستی، پہلی محبت، ذہنی صحت اور خود کو تلاش کرنے کی میری اپنی کہانی ہے۔
ملالہ نے مزید کہا کہ پندرہ سال کی عمر میں دنیا میرا نام جانتی تھی لیکن حقیقت میں کوئی مجھے نہیں جانتا تھا۔ یہ وہ کہانی نہیں جو آپ سمجھتے ہیں، بلکہ وہ ہے جو میں برسوں سے سنانا چاہتی تھی۔
یاد رہے کہ ملالہ سوات میں شدت پسندوں کے قبضے کے دوران طالبات پر اسکول کی بندش کے حوالے سے عالمی نشریاتی ادارے کو خطوط کے ذریعے آگاہ کیا کرتی تھیں۔
طالبان کے سوات سے خاتمے کے بعد ملالہ میڈیا پر عوام کے سامنے بھی آئیں اور 2012 میں اس وقت عالمی توجہ حاصل کی جب ٹی ٹی پی کے اسکول بس پر حملے میں شدید زخمی ہو گئیں۔
ملالہ یوسف زئی کو علاج کے لیے برطانیہ منتقل کیا گیا جہاں سے اُن کا تعلیمی اور انسانی حقوق کی جدوجہد کا سفر عالمی سطح پر پھیل گیا۔
بعد ازاں ملالہ نے صرف 17 برس کی عمر میں نوبیل امن انعام حاصل کیا اور وہ اب بھی دنیا بھر میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے سرگرم ہیں۔
ملالہ کا کہنا ہے کہ میں ان 122 ملین لڑکیوں کے لیے ہر روز لڑتی رہوں گی جو ابھی تک کسی بھی وجہ سے اسکول جانے سے قاصر ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ ان کی جدوجہد اپنی تعلیم کے لیے شروع ہوئی، لیکن جلد ہی انہیں احساس ہوا کہ یہ جنگ صرف ان کی ذات تک محدود نہیں، بلکہ یہ ہر اُس لڑکی کی جنگ ہے جو تعلیم کا حق رکھتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔