مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارت امریکا تجارتی مذاکرات ڈیڈلاک کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
مودی کی معاشی پالیسوں کی ناکامی کے نتیجے میں بھارت امریکا تجارتی مذاکرات ڈیڈ لاک کا شکار ہوگئے۔
بھارت میں ہندو انتہا پسند جماعت بی جے پی کے کٹھ پتلی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کی غیر واضح پالیسیوں پر امریکا نے تشویش کا اظہار کیا ہے جب کہ عالمی سطح پر بھی بھارت اپنی ہٹ دھرمیوں کے باعث تنہائی کا شکار ہو چکا ہے۔
مودی سرکار کا ’’وشو گرو‘‘بیانیہ معاشی میدان میں ناکام ہوچکا ہے جب کہ ٹیرف سے خوفزدہ مودی اپنی پالیسیوں میں پالیسی یوٹرن لے رہے ہیں۔ بھارتی حکومتی ذرائع کے مطابق آٹو، اسٹیل اور زرعی اشیا پر محصولات کا تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔
امریکا کے ساتھ تعلقات میں بھارت کا دہرا معیار بھی عیاں ہو چکا ہے، جو خود 68فیصد درآمدی ٹیرف لگا رہا ہے لیکن امریکا سے رعایت کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
معرکہ حق کے دوران امریکا کی پاکستان سے رغبت پر بھی بھارت تذبذب کا شکار ہے۔ بھارتی سفارتی ناکامی سے اس کی معیشت کو شدید دھچکا لگا ہے۔ اُدھر صدر ٹرمپ نے پاکستان کی جانب جھکاؤ ظاہر کیا ہے، جس پر بھارت میں کھلبلی مچی ہوئی ہے۔
بھارت امریکا کے ساتھ گہرے اسٹریٹیجک تعلقات قائم کرنے پر خوفزدہ ہے۔ مودی کی جانب سے باہمی رعایت نہ ملنے پر ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف عائد کرنے کی وارننگ دی جا چکی ہے۔ مودی سرکار کی مسلسل ناکام پالیسیوں کے نتیجے میں نام نہاد خود مختار بھارت کی اقتصادی دیواریں ہلنے لگی ہیں اور اسے تجارتی محاذ پر پسپائی کا سامنا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
امریکا نے جبری مشقت کی روک تھام میں ناکامی پر60 سے زائد تجارتی شراکت داروں پر 10 سے 12.5 فیصد تک ٹیرف عائد کردیئے ہیں۔ 24 جولائی سے نئے ٹیرف کا اطلاق ہو رہا ہے اور پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جن پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ نیا اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کے نظریے کو بحال کرنے کی کوشش ہے۔ فروری 2026 میں امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک کی اشیا پر لگائے جانے والے 10 سے 50 فیصد اضافی ٹیرف کے نفاذ کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس بار ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 301 کو استعمال کرکے 60 سے زائد ممالک پر ٹیرف عائد کیے جا رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ممالک جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے اور اس حوالے سے قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ارجنٹینا، بنگلا دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ دیگر 38 ممالک کی درآمدی اشیا پر 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ کچھ امریکی تجارتی شراکت داروں جیسے آسٹریلیا اور برازیل نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نئے ٹیرف غیرمنصفانہ ہیں اور وہ انہیں ختم کرانے کی کوشش کریں گے جبکہ ناروے کا کہنا تھا کہ بے بنیاد الزامات پر اس کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔ نئے ٹیرف میں مختلف درآمدی اشیا جیسے خام تیل، قدرتی گیس، مخصوص غذائی اجناس اور اشیا سمیت کھاد کو شامل نہیں کیا گیا۔ اسی طرح جو اشیا جیسے اسٹیل، گاڑیاں، ایلومنیم اور تانبا وغیرہ پہلے سے سیکشن 232 نیشنل سکیورٹی ٹیرف میں شامل ہیں، ان پر بھی اس کا نفاذ نہیں ہوگا۔