data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی:چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہے کہ ہم نے بھارت کو سبق سکھا دیا ہے، اس نے دوبارہ حملہ کیا تو اسے پھر قیمت چکانی پڑے گی۔

پاک بحریہ کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے واضح اور پرعزم انداز میں خبردار کیا ہے کہ اگر کسی دشمن خصوصاً بھارت نے دوبارہ کسی مہم جوئی کی کوشش کی تو پاکستان اس کا جواب بھرپور انداز میں دے گا اور اس بار کسی قسم کی جھجک یا نرمی کا مظاہرہ نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے بھارت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کے معرکہ حق آپریشن بنیان مرصوص میں اپنی ذلت آمیز شکست کو کبھی فراموش نہیں کر سکے گا۔

فیلڈ مارشل کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے، لیکن امن کی خواہش کو ہرگز ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی نے ہماری خودمختاری کو چیلنج کرنے کی جرأت کی تو اس کا جواب ایسا ہوگا جس کی قیمت خود دشمن کو ادا کرنا پڑے گی۔ پاکستان ہر قیمت پر اپنے دفاع، سلامتی اور قومی وقار کا تحفظ کرے گا۔

پاسنگ آؤٹ پریڈ میں شرکت کو اپنے لیے اعزاز قرار دیتے ہوئے فیلڈ مارشل نے نوجوان افسران کو خراجِ تحسین پیش کیا اور دوست ممالک سے آئے شرکا کو مبارک باد دی۔ انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی قوم کی ترقی کے لیے عوام، حکومت اور افواج کے درمیان مضبوط اور قابلِ بھروسا رشتہ ناگزیر ہوتا ہے اور پاکستان بھی اسی بنیاد پر ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔

بھارت کی حالیہ اشتعال انگیزیوں اور تاریخی جارحیت کا ذکر کرتے ہوئے فیلڈ مارشل نے کہا کہ بھارت نے دو بار پاکستان پر حملہ کیا اور دونوں بار اسے منہ کی کھانی پڑی۔ بھارت نے ہمیشہ اپنی قوم پرستی، عسکری طاقت اور جعلی اسٹریٹجک اہمیت کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا، مگر پاکستان کی مدبرانہ حکمت عملی اور مؤثر دفاعی تیاریوں نے خطے کو بڑی تباہی سے بچا لیا۔

انہوں نے زور دیا کہ اگرچہ پاکستان نے صبر، تحمل اور ذمے داری کا مظاہرہ کیا، تاہم اب یہ سمجھنا کہ پاکستان مزید برداشت کرے گا، انتہائی خطرناک غلط فہمی ہوگی۔ بھارت کی ہر حرکت کا جواب سوچ سمجھ کر، مگر بھرپور طاقت سے دیا جائے گا اور ہر سطح پر پاکستان اپنے مفادات کا دفاع کرے گا۔

فیلڈ مارشل نے اپنے خطاب میں مسئلہ کشمیر پر بھی دوٹوک مؤقف اپنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دلوانا پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کشمیر کا مسئلہ طاقت سے دبایا نہیں جا سکتا اور اس کا پائیدار حل صرف کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہی ممکن ہے۔ انہوں نے دنیا کو پیغام دیا کہ خطے میں مستقل امن مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر ممکن نہیں۔

اپنے خطاب کے آخر میں فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جو طویل جنگ لڑی ہے، وہ کسی بھی صورت ادھوری نہیں رہے گی۔ قومی عزم آج پہلے سے کہیں زیادہ پختہ ہو چکا ہے اور قوم ہر آزمائش میں مزید نکھر کر سامنے آئی ہے۔

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاک بحریہ کو درپیش سمندری چیلنجز روز بہ روز پیچیدہ ہو رہے ہیں، مگر ہماری افواج ان سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار اور پُرعزم ہیں۔ پاکستان کو ایک مستحکم، خودمختار اور طاقتور ریاست بنانے کے لیے تمام اداروں اور طبقات کو اپنی ذمہ داریوں کا مکمل ادراک کرنا ہوگا اور یہی قومی ترقی کا راستہ ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فیلڈ مارشل نے انہوں نے دیا کہ کے لیے

پڑھیں:

پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی

پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔

ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔

مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔

ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلت

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔

عالمی جنگ کے امکانات نہیں

عالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا

ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔

پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرے

پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار