ٹرمپ نے ٹیرف کے معاملے میں ماہرین کو غلط ثابت کردیا، ماہرِ معاشیات کا اعتراف
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جینیس یعنی عبقری ہیں؟ معروف ماہرِ معاشیات کا کہنا ہے کہ ٹیرف کے معاملے میں امریکا اور یورپ کے بیشتر ماہرینِ معاشیات نے صدر ٹرمپ کو غلط قرار دیا تھا اور یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ اُن کے اقدامات بیک فائر کریں گے مگر ایسا نہیں ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے بیشتر ماہرینِ معاشیات کو پیچھے چھوڑ دیا۔
برطانوی اخبار دی انڈیپینڈنٹ میں شایع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اپالو گلوبل مینیجمنٹ کے چیف اکنامسٹ ٹارسٹین سلاک کا کہنا ہے کہ امریکی صدر نے بیشتر ماہرینِ معاشیات کے اندازوں کو بالکل غلط ثابت کردیا ہے۔ اب یہ کہا جاسکتا ہے کہ معاشی اقدامات کے حوالے سے فکر و نظر کے معاملے میں وہ ماہرین سے بہتر سوچ سکتے ہیں۔
ایک بلاگ پوسٹ میں ٹارسٹین سلاک نے لکھا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ٹیرف کے معاملے میں اچھا خاصا ابہام پیدا کیا اور اِس ابہام سے خود بھی فائدہ اٹھایا اور امریکی معیشت کے لیے بھی بہتری پیدا کرنے کی کوشش کی۔ امریکی معیشت کے لیے غیر یقینی کیفیت پیدا ہوچلی تھی۔ اس کیفیت کو ختم کرنے کے لیے ٹرمپ نے تادیر غیر یقینیت برقرار رکھی اور کئی ممالک کو ٹیرف سے اس قدر ڈرایا کہ اُن کے لیے پیچھے ہٹنے کے سوا چارہ نہ رہا۔
اب بہت سے ماہرینِ معاشیات کہہ رہے ہیں کہ جو کچھ ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتصادی اقدامات کے نام پر کیا اُس کے نتیجے میں امریکی ٹیکس دہندگان کو سالانہ 400 ارب ڈالر کی آمدنی یقینی بنائی جاسکے گی۔ امریکا کے ٹریڈ پارٹنرز صرف 10 فیصد ٹیرف کے ساتھ خوش ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے تمام ماہرین کو غلط ثابت کردیا ہے۔
۔۔۔۔۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے معاملے میں ٹیرف کے کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔