data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

گلگت بلتستان : بالائی علاقوں میں گلیشیئرز کے پگھلنے کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے، جس کے باعث دریاؤں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو گئی ہے۔ کئی نشیبی علاقے زیرِ آب آ چکے ہیں، جب کہ متاثرہ علاقوں میں مقامی افراد اور سیاحوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

ضلع غذر کی تحصیل یاسین میں پانی کے شدید کٹاؤ کے باعث کئی علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق پل اور سڑکیں شدید متاثر ہو چکی ہیں، جس کی وجہ سے نہ صرف آمد و رفت رک گئی ہے بلکہ ہنگامی امدادی سرگرمیوں میں بھی خلل پیدا ہو رہا ہے۔

گلگت بلتستان کے مختلف سیاحتی علاقوں میں موجود ملکی و غیر ملکی سیاح بھی مشکلات سے دوچار ہیں۔ بعض مقامات پر ہوٹلوں تک رسائی ممکن نہیں رہی، اور مواصلاتی نظام بھی متاثر ہو رہا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق گلیشیئرز کے پگھلنے کا عمل جولائی اور اگست میں مزید تیز ہو سکتا ہے، جس سے فلیش فلڈ (اچانک آنے والے سیلاب) کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ متعلقہ اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے اور عوام سے احتیاط برتنے کی اپیل کی گئی ہے۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں کی جانب روانہ کی گئی ہیں، جبکہ بعض خطرناک مقامات سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا عمل جاری ہے۔ تاہم، مواصلاتی نظام کی خرابی کے باعث کئی علاقوں میں صورتحال سے مکمل آگاہی حاصل نہیں ہو پا رہی۔

حکام کا کہنا ہے کہ اگر گلیشیئرز کا پگھلنے اسی رفتار سے جاری رہا تو آئندہ دنوں میں مزید علاقوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں فوری امدادی سامان اور طبی سہولتوں کی فراہمی کے لیے وفاقی حکومت سے مدد کی اپیل کی گئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: علاقوں میں گئی ہے گیا ہے

پڑھیں:

بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے

تصویر سوشل میڈیا۔

پراونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کر دی۔ 

لاہور ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے۔  

لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا

بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث نناوے فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔

ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں میں کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے۔ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا، بارشوں کے باعث 38 مکانات جزوی طور پر متاثر ہوئے۔ 

ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ 

انھوں نے کہا کہ شہریوں سے گزارش ہے موسم برسات میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • زباں فہمی289؛ میں بھی رانی، تُو بھی رانی........
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • آزادکشمیرکے ضلع میرپور میں انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل