اوگرا نے گیس کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
نوٹیفکیشن کے مطابق پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے گیس کے فکسڈ چارجز 400 سے بڑھا کر 600 روپے جبکہ نان پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے فکسڈ چارجز ایک ہزار سے بڑھا کر 1500 روپے کردیے گئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اوگرا نے گیس کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا، گیس کی نئی قیمتوں کا اطلاق یکم جولائی 2025ء سے ہو گا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے گیس کے فکسڈ چارجز 400 سے بڑھا کر 600 روپے جبکہ نان پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے فکسڈ چارجز ایک ہزار سے بڑھا کر 1500 روپے کردیے گئے ہیں۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ماہانہ گیس کھپت 15 مکعب میٹر سے زائد ہونے کی صورت میں فکسڈ چارجز ایک ہزار روپے اضافے سے 3 ہزار روپے کر دیے گئے ہیں۔ ترجمان کے مطابق روٹی تندور، کمرشل، جنرل انڈسٹری، سی این جی سیکٹر، سیمنٹ اور کھاد کے شعبے کے لیے گیس کی قیمتیں تبدیل نہیں کی گئیں۔
اوگرا ترجمان نے بتایا کہ بلک صارفین، پاور سیکٹر اور انڈسٹری کے لیے گیس کی قیمتیں بڑھائی گئی ہیں جبکہ گیس کے گھریلو صارفین کے فکسڈ چارجز میں اضافہ ہو گا۔ اوگرا کے نوٹیفکیشن کے مطابق پاور پلانٹس کے لیے گیس 16.
بجلی کارخانوں کے لیے گیس کی قیمت 175 روپےفی ایم ایم بی ٹی یو اضافے کے بعد 1225 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی ہے۔ جنرل اندسٹری کے لیے گیس کی قیمت 150 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو اضافے کے بعد 2300 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق کیپٹیو پاور پلانٹس کے لیے گیس قیمت 3500 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: روپے فی ایم ایم بی ٹی یو نوٹیفکیشن کے مطابق کے لیے گیس کی فکسڈ چارجز سے بڑھا کر کی گئی ہے
پڑھیں:
خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔
نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔
ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔