data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

 

ویانا (مانیٹرنگ ڈیسک) اقوام متحدہ کے جوہری توانائی سے متعلق ادارے کے سربراہ رافیل گروسی نے ایرانی جوہر تنصیبات پر امریکی حملوں کے مؤثر ہونے پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ایران چند ماہ کے اندر افزودہ یورینیم بنا سکتا ہے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ایران کے پاس یورینیم افزودگی کی صلاحیت موجود ہے، ان کے پاس اتنی صلاحیت ہے کہ وہ مہینوں میں یہ کرسکتے ہیں اور میرے خیال میں چند ماہ یا اس سے کم وقت میں افزودہ یورینیم کی پیداوار شروع ہوگی۔انہوں نے کہا کہ کوئی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا ہے کہ سب کچھ ختم ہوچکا ہے اور وہاں کچھ بچا نہیں‘ فردو، نطنز اور اصفہان میں واقع جوہری تنصیبات پر حملوں سے ایران کی یورینیم افزودگی کی صلاحیت کو معقول نقصان پہنچایا ہے۔رافیل گروسی نے کہا کہ ایران جوہری ٹیکنالوجی میں قابل قدر ملک ہے، اس لیے آپ یہ
نہیں کہہ سکتے ہیں کہ ان کی صلاحیت ختم کردی ہے، آپ اس علم کو ختم نہیں کرسکتے ہیں جو آپ کے پاس ہے یا جو صلاحیت آپ کے پاس موجود ہے۔امریکا کے حملے سے قبل ایران کی جانب سے افزودہ یورینیم محفوظ مقام پر منتقل کیے جانے سے متعلق سوال پر آئی اے ای اے کے سربراہ نے کہا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ مواد کہاں رکھا ہوا تھا‘ ممکنہ طور پرحملے کے نتیجے میں اس کے کچھ حصے کو تباہ کیا جاسکتا ہے لیکن کچھ منتقل کیا گیا ہو۔دوسری جانب ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ قبل ازیں ایرانی پارلیمنٹ کے نائب اسپیکر حامد رضا حاجی بابائی نے کہا تھا کہ ایران نے آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی پرجوہری تنصیبات کا دورہ کرنے پر پابندی عاید کر دی ہے‘ آئی اے ای اے کو دی گئی ایرانی تنصیبات سے متعلق معلومات اسرائیل کے ذریعے منظر عام پر آئیں اور یہ عمل ایران کے لیے سیکورٹی خطرہ ہے۔ نائب اسپیکر نے کہا کہ اب آئی اے ای اے کو ایرانی تنصیبات پر نگرانی کے لیے کیمرے نصب کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ا ئی اے ای اے رافیل گروسی کے سربراہ نے کہا کہ کہ ایران کے پاس

پڑھیں:

ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی