TEHRAN:

ایران کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل عبدالرحیم موسوی نے اسرائیل کی صہیونی جارحیت کے خلاف تعاون پر پاکستان کا بھرپور شکریہ ادا کیا اور پاکستانی حکومت اور قوم کے جذبے کو سراہا۔

ایرانی سرکاری خبرایجنسی تسنیم کی رپورٹ کے مطابق ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل عبدالرحیم موسوی نے پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور ایران پر اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف ظلم اور دہشت گردی کے کے دوران پاکستانی حکومت اور قوم کی جانب سے جرات مندانہ مؤقف اپنانے اور تعاون کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس موقع پر ایرانی کمانڈر نے ایران کے خلاف صہیونی جارحیت پر امریکی تعاون کی مذمت کی اور کہا کہ ایران کے جوبی میزائل اور ڈرون حملوں کے خلاف صہیونی حکومت کو بچانے کے لیے امریکا نے بھی اپنی تمام صلاحیتیں جھونک دی تھیں۔

میجر جنرل عبدالرحیم موسوی نے کہا کہ امریکا کے ساتھ ساتھ کئی مغربی ممالک نے بھی زبانی اور عملی طور پر ہمارے دشمن اسرائیل کی مدد کی۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے جنگ کے شروع میں بھاری نقصان اور سرفہرست کمانڈرز کی شہادت کے باوجود دشمن کے منصوبوں کو خاک میں ملادیا اور جنگ بندی کے مطالبے پر مجبور کردیا۔

یاد رہے کہ اسرائیل نے 13 جون کو ایران پر حملے کیے تھے اور ان حملوں میں مسلح افواج کے سربراہ، پاسدران انقلاب کے چیف سمیت تمام مرکزی جنرلز کو شہید کردیا تھا اور متعدد جوہری تنصیبات پر بمباری کی تھی۔

ایران نے بعد ازاں جوابی حملے میں اسرائیل کے اہم مراکز کو نشانہ بنایا تھا اور 12 روزہ جاری رہنے والی جنگ کے دوران اسرائیل کی مدد کے لیے امریکا بھی میدان میں کود پڑا تھا، امریکا نے 22 جون کو ایران کی اہم جوہری تنصیبات نطنز، فردو اور اصفہان کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

امریکی حملے کے جواب میں ایران نے قطر اور عراق میں قائم امریکی اڈوں پر حملے کیے تھے اور اس کے بعد امریکا نے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا اور 24 جون کو ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا نفاذ کیا گیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے خلاف

پڑھیں:

’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔

قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔

بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کیلئےمعاہدے
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق