یہود و ہنود گٹھ جوڑ؛بھارتی سافٹ ویئرز کے ذریعے اسرائیلی جاسوسی بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
یہود و ہنود گٹھ جوڑ کے تحت بھارتی سافٹ ویئرز کے ذریعے اسرائیلی جاسوسی بےنقاب ہو گئی۔
ذرائع کے مطابق بھارت اور اسرائیل کا سازشی اتحادایک بار پھر بےنقاب ہوگیا۔ 20سالہ بھارتی سافٹ ویئر اجارہ داری نے ایران کی قومی سلامتی کو اسرائیل کےحوالےکردیا اور بھارتی سافٹ ویئر کمپنیاں اسرائیل کو ایران کی بیک ڈور رسائی فراہم کرنے میں ملوث ہیں۔
آسٹریلوی صحافی اور ایکس پر لائیو شو کے میزبان ماریو نوفل کے مطابق ’ایرانی حکام ان کمپنیوں کے کردار کا جائزہ لے رہے ہیں جو سائنسدانوں اور اہم تنصیبات کا ڈیٹافراہم کرنے میں ملوث رہی ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق مشترکہ تفتیش نے ثابت کیا کہ بھارتی کوڈر حساس ڈیٹا چرا رہے ہیں۔
ماریو نوفل کے مطابق بھارتی کوڈر فوجی نظام کو بھی سائبر طریقے سے کنٹرول کر رہے تھے۔
ذرائع کے مطابق بھارتی پروگرامرز کی اسرائیل سے خفیہ رابطے اور اسٹار لنک کے ذریعے حساس معلومات کی منتقلی کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ اسرائیل کو شہری رجسٹری، پاسپورٹ اور ہوائی اڈوں کی خفیہ معلومات تک رسائی دی گئی ۔ یہاں تک کہ ایران کے اہم ادارے اسرائیلی جاسوسی کے شکنجے میں ہیں۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ بھارتی سافٹ ویئر کے ذریعے فوجی نظام میں دخل اندازی کی گئی ہے۔ اسرائیل کو نگرانی اور کنٹرول کی مکمل سہولت دی گئی۔ بھارتی سافٹ ویئرز کے ذریعے اسرائیل نے ایرانی جوہری سائنسدانوں کی حساس معلومات تک رسائی حاصل کی ۔ اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں اور جلد ہی ایرانی حکومت باضابطہ مؤقف اور ممکنہ کارروائی کا اعلان کرے گی۔
آئی ٹی ماہرین کےمطابق ایران کو فوری طور پر اپنے ڈیجیٹل ڈھانچے کی ازسرِ نو جانچ اور مقامی سافٹ ویئر پر انحصار بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت صہیونی طاقت کا آلہ اور پراکسی بن کر پورے خطے کو ڈیجیٹل قبضے میں لے رہا ہے۔ دنیا کو بھارت کی ڈیجیٹل دہشت گردی سے خبردار رہنا ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔