بھارتی کرکٹر کیخلاف خاتون سے جنسی ہراسانی کے الزام میں مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
بھارتی کرکٹر یش دیال کیخلاف خاتون سے جنسی ہراسانی کے الزام میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔
بھارتی ٹیم کے ساتھ نیٹ بولر کی حیثیت سے وابستہ رہنے والے یش دیال پر غازی آباد سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے جنسی ہراسانی اور تشدد کے الزامات عائد کیے ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق متاثرہ خاتون نے اترپردیش کے وزیراعلیٰ کے آن لائن شکایتی پورٹل پر شکایت درج کراتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یش دیال نے شادی کا وعدہ کیا لیکن بعد میں انکار کر دیا۔ خاتون کے مطابق دونوں کے درمیان گزشتہ پانچ سال سے قریبی تعلقات تھے۔
صرف آن لائن شکایت پر اکتفا نہ کرتے ہوئے، خاتون نے مقامی پولیس اسٹیشن میں بھی یش دیال کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج کرایا ہے۔
مقدمے کے متن میں خاتون نے الزام لگایا ہے کہ یش دیال نے نہ صرف جذبات سے کھیلنے کے بعد پیچھے ہٹنے کی کوشش کی بلکہ انہیں جنسی طور پر ہراساں بھی کیا۔
اترپردیش حکومت نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو 21 جولائی تک مکمل انکوائری رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
یش دیال انڈین پریمیئر لیگ میں رائل چیلنجر بنگلورو کی نمائندگی کرتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔