پنجاب بھر میں محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی ہائی الرٹ
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
لاہور سمیت پنجاب بھر میں محرم الحرام میں پولیس کی جانب سے سخت سیکیورٹی انتظامات کئے گئے ہیں، 4 محرم کو 32 ہزار سے زائد اہلکار سیکیورٹی پر مامور ہیں۔
ترجمان پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ صوبائی دارالحکومت لاہور میں 2800 سے زائد اہلکار ڈیوٹی پر تعینات ہیں، پنجاب بھر میں آج 262 عزاداری جلوس، 3724 مجالس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق پنجاب بھرمیں 17ہزار سے زائد کمیونٹی رضا کار بھی فرائض انجام دے رہے ہیں۔
فوج تعینات کرنے کا فیصلہ:
ملک میں محرم الحرام کے دوران سکیورٹی خدشات کے پیش نظر فوج تعینات کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا، سول اداروں کی مددکیلئے فوج سیکیورٹی کے فرائض سر انجام دے گی۔
وزارت داخلہ نے اسلامی مہینے محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ملک بھر میں پاک فوج کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔
آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے، جس میں چاروں صوبوں، جی بی اور آزادکشمیرمیں فوج کی تعیناتی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
نوٹی فکیشن میں کہا گیا وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی فوج تعینات کی جائے گی، محرم کے دوران سول اداروں کی مدد کیلئے فوج سیکیورٹی کے فرائض سر انجام دے گی۔
فوج کی تعیناتی کا مقصد ممکنہ سکیورٹی خطرات سے نمٹنا اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے، فوج کے دستے حساس علاقوں میں گشت کریں گے اور حفاظتی انتظامات کی نگرانی کریں گے۔
چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان کی حکومتوں نے محرم میں فوج تعیناتی کی درخواست کی تھی۔
یاد رہے پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں یکم سے 10محرم تک دفعہ 144 نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ اس مہینے میں امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔
دفعہ 144 کے تحت سیکورٹی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے لیے صوبے بھر میں سات قسم کی پابندیاں نافذ کی گئیں ہیں۔
موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی خاص طور پر 9 اور 10 محرم کو نافذ کی جائے گی۔ دیگر تمام پابندیاں پورے 10 دن کی مدت میں نافذ رہیں گی۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فوج کی تعیناتی محرم الحرام فوج تعینات کے دوران
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔