پارلیمان اچھے طرزِ حکمرانی کو فروغ دینے، جمہوری اداروں کو مستحکم بنانے میں معاون ہے: آصف علی زرداری
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
صدرِ مملکت آصف علی زرداری— فائل فوٹو
صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ ایسا پاکستان تعمیر کریں جہاں جمہوریت پروان چڑھے، ادارے مضبوط ہوں۔ پارلیمان اچھے طرزِ حکمرانی کو فروغ دینے، جمہوری اداروں کو مستحکم بنانے میں معاون ہے۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے بین الاقوامی یومِ پارلیمان پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت، آزادی، سماجی و معاشی انصاف کے اصولوں پر کار بند رہنے کے عزم کی تجدید کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ پارلیمان عوام کی خود مختار نمائندہ اور آئین و جمہوری اقدار کی نگہبان ہوتی ہے، پارلیمان قومی پالیسی سازی، شفافیت اور جوابدہی کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمان شہریوں کے بنیادی حقوق اور آزادیوں کے تحفظ کی ضامن ہے، مؤثر قانون سازی سے پارلیمان عوامی خدمات کی بہتری میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
صدرِ مملکت کا کہنا ہے کہ قانون ساز ادارے جمہوری اقدار کا دفاع کریں، قومی ترقی کے سفر کو آگے بڑھائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: علی زرداری
پڑھیں:
امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
واشنگٹن: امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو کرنسی ایکسچینجز کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق پابندیوں کا مقصد ایران سے منسلک مالیاتی سرگرمیوں کو محدود کرنا اور ایسے نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے جن پر امریکی حکام کو پابندیوں سے بچنے میں معاونت کا شبہ ہے۔
بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان افراد اور اداروں کے ساتھ کاروبار یا مالی لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے، کمپنیاں اور افراد بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔ اس اقدام کے بعد بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے لیے ان نامزد اداروں سے تعلقات برقرار رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ حتمی منصوبے پر فوری ردعمل دینے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک کوئی باضابطہ جواب نہیں بھیجا گیا۔
ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی تجویز پر ایران میں مختلف سطحوں پر مشاورت جاری ہے اور متعلقہ حکام اس منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے تہران کسی بھی ممکنہ معاہدے میں صرف وعدوں پر انحصار نہیں کرنا چاہتا بلکہ ایسے ٹھوس اور حقیقی فوائد کا خواہاں ہے جو ایرانی عوام اور ملکی معیشت کے لیے عملی نتائج فراہم کر سکیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق نئی امریکی پابندیاں اور جاری سفارتی مذاکرات ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کر سکتے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ سمجھوتے کے امکانات پر بھی عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔