WE News:
2026-07-24@00:54:24 GMT

میٹر ریڈنگ ایپ کیا ہے اور عوام کو اس سے کیا فائدہ ہوگا؟

اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT

میٹر ریڈنگ ایپ کیا ہے اور عوام کو اس سے کیا فائدہ ہوگا؟

پاکستان میں ہر ماہ بجلی کے بلوں پر عوام کی پریشانی ایک مستقل مسئلہ بن چکی ہے۔ کہیں بل زیادہ آتے ہیں، کہیں یونٹ کا اندازہ غلط لگایا جاتا ہے، اور کہیں میٹر ریڈر آتے ہی نہیں۔ ایسے میں شہری اکثر بےبس نظر آتے ہیں۔ مگر گزشتہ روز وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی جانب سے “میٹر ریڈنگ ایپ” کا افتتاح کیا گیا ہے تاکہ عوام ان تمام پریشانیوں سے بچ سکیں۔

میٹر ریڈنگ ایپ کیا ہے؟

میٹر ریڈنگ ایپ ایک موبائل ایپلیکیشن ہے جو صارفین کو یہ سہولت دیتی ہے کہ وہ اپنے بجلی کے میٹر کی ریڈنگ خود درج کریں، میٹر کی تصویر اپ لوڈ کریں اور موجودہ استعمال کی بنیاد پر اندازہ لگا سکیں کہ بل کتنا بنے گا۔ یہ ایپ بجلی کے استعمال کو ٹریک کرنے، روزانہ، ہفتہ وار یا ماہانہ حساب رکھنے اور بل کے اندازے لگانے میں مدد فراہم کرے گی۔ اس سے صارفین میں نہ صرف اپنے بجلی کے بل کو لے کر خوداعتمادی پیدا ہوگی بلکہ وہ پہلے سے ہی ذہنی طور پر تیار رہیں گے کہ انہیں اس بار کتنا بل ادا کرنا ہوگا۔

عوام کیسے مستفید ہو سکتے ہیں؟

شفافیت میں اضافہ:
صارف خود دیکھ سکتا ہے کہ کتنے یونٹس استعمال ہوئے، اور کیا اصل بل ان کے مطابق آیا ہے یا نہیں۔

غلط ریڈنگ کا خاتمہ:
اگر کسی ماہ بل زیادہ آئے، تو صارف ایپ میں محفوظ کی گئی پرانی ریڈنگز اور تصاویر کی بنیاد پر شکایت درج کر سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم کا ’اپنا میٹر، اپنی ریڈنگ‘ اسمارٹ ایپ کا افتتاح، بجلی کے بلوں میں پی ٹی وی کی فیس ختم کرنے کا اعلان

دیہی علاقوں میں آسانی:
جہاں میٹر ریڈر باقاعدگی سے نہیں آتے، وہاں یہ ایپ صارف کو خود ریڈنگ درج کرکے کنٹرول دیتی ہے۔

بل سے پہلے تیاری:
صارف ایپ کی مدد سے پہلے سے اندازہ لگا لیتا ہے کہ اس کا بل کتنا آئے گا، جس سے وہ اخراجات کی بہتر منصوبہ بندی کر سکتا ہے۔

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے طارق رشید کا کہنا تھا کہ یہ ایپ تمام بجلی صارفین کے لیے بہترین ثابت ہوگی۔ اس ایپ سے تسلی ہوگی کہ آیا بجلی کا بل درست ہے یا نہیں۔ اور اس کے علاوہ، وہ امید کرتے ہیں کہ اس ایپ کے ذریعے بجلی کے بھاری بھرکم بلوں پر بھی کچھ حد تک قابو پایا جا سکے گا۔ امید ہے کہ حکومت کی جانب سے متعارف کروائی گئی یہ ایپ عوام کے لیے کافی فائدہ مند ثابت ہوگی۔

راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی روبینہ صغیر نے بتایا کہ ان کے گھر میں 3 افراد ہیں، اور گزشتہ برس بجلی انتہائی کم استعمال کرنے کے باوجود بھی بل 10 سے 15 ہزار روپے کے درمیان آتا رہا، جس نے نہ صرف ان کے ماہانہ اخراجات پر اثر ڈالا بلکہ اکثر پورا دن صرف بل کی خاطر پنکھے کے نیچے گزارنا پڑتا تھا۔ مگر امید ہے کہ اس ایپ کے ذریعے اب وہ خود اپنا بل مانیٹر کر سکیں گی اور ہر ہفتے یہ واضح کر سکیں گی کہ بجلی کی کتنی کھپت ہوئی۔ اس طرح یہ تکلیف نہیں ہوگی کہ بل اتنا زیادہ آیا ہے جبکہ استعمال کم تھا۔ اور اگر بل غلط بھی آجائے تو ثبوت موجود ہوگا۔

مزید پڑھیں: اسمارٹ بجلی میٹرز جلد نصب کرکے رپورٹ پیش کی جائے، وزیراعظم کی ہدایت

محمد نوید قمر نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اس طرح کی ایپس پہلے بھی استعمال کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے اے سی کے لیے ایک ایپ استعمال کرتے ہیں، جس سے پتا چلتا ہے کہ اگر وہ 9 گھنٹے اے سی چلاتے ہیں تو کتنے یونٹس استعمال ہوتے ہیں۔ اسی طرح، پنکھا چلانے سے کتنے یونٹس لگتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ اس طرح کی ایپس بہت بہترین ہوتی ہیں اور قریباً درست اندازہ بتاتی ہیں۔ اس سے کم از کم انسان ذہنی طور پر پرسکون رہتا ہے کہ کتنے یونٹس استعمال ہوئے اور ان پر کتنا بل متوقع ہو سکتا ہے۔

نوید قمر کا مزید کہنا تھا کہ میٹر ریڈرز کی غلطیوں کی سزا اب کم از کم عوام کو بھگتنا نہیں پڑے گی۔ اور اگر کسی دن زیادہ یونٹس استعمال ہو جائیں، تو اگلے دن کھپت کو کم کرکے بل کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ بلکہ اس ایپ کے استعمال سے پروٹیکٹڈ صارفین خود کو اس فہرست میں برقرار رکھنے میں بھی آسانی سے کامیاب ہو سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ “میٹر ریڈنگ ایپ” کئی صارفین کے لیے نہ صرف آسانی کا ذریعہ بن رہی ہے بلکہ بجلی کے استعمال پر خود نگرانی کا ایک نیا راستہ بھی فراہم کر رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بجلی صارفین میٹر ریڈنگ میٹر ریڈنگ ایپ وزیراعظم شہباز شریف.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بجلی صارفین میٹر ریڈنگ میٹر ریڈنگ ایپ وزیراعظم شہباز شریف یونٹس استعمال ہو میٹر ریڈنگ ایپ کتنے یونٹس بجلی کے سکتا ہے کے لیے یہ ایپ اس ایپ

پڑھیں:

دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس

دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔

دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر

نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔

ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟

ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔

کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟

حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔

دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران