مشرق وسطیٰ میں کشیدگی جاری، فضائی ٹریفک بدستور متاثر
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 30 جون 2025ء) ایران اور اسرائیل کے درمیان بارہ روزہشدید لڑائی کے بعد سیزفائر پر اتفاق تو ہو چکا ہے تاہم کشیدگی اور غیریقینی کی صورتحال بدستور موجود ہے۔ اسی باعث اس پورے خطے میں فضائی ٹریفک شدید متاثر ہے۔مشرق وسطیٰ کے مختلف شہروں کے لیے اپنی پروازیں منسوخ کرنے والی فضائی کمپنیوں کی فہرست دیکھیے۔
ایجیئن ایئر لائنز
اس یونانی ایئر لائن نے تل ابیب، بیروت، عمان اور اربیل کے لیے 8 ستمبر کی صبح تک تمام پروازیں منسوخ کر رکھی ہیں۔
ایئر بالٹک
لِٹویا کی ایئرلائن نے اعلان کیا ہے کہ 30 ستمبر تک تل ابیب کے لیے تمام پروازیں منسوخ رہیں گی۔
ایئر کینیڈا
کینیڈین ایئرلائن نے ٹورنٹو سے دبئی کی پروازیں چار اگست تک معطل رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
(جاری ہے)
اس ایئرلائن کے مطابق کینیڈا اور اسرائیل کے درمیان پروازیں آٹھ ستمبر سے بحال کیے جانے کا امکان ہے۔ایئر یوروپا
اسپین کی ایئریوروپا نے تل ابیب کے لیے 31 جولائی تک تمام پروازیں منسوخ کر رکھی ہیں۔
ایئر فرانس اورکے ایل ایم
ایئر فرانس سات جولائی سے پیرس کے چارلس ڈیگال ایئرپورٹ اور تل ابیب کے درمیان پروازیں بحال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
ڈیلٹا ایئر لائنز
امریکی ایئرلائن ڈیلٹا کے مطابق تل ابیب جانے والی پروازیں اکتیس اگست تک متاثر ہو سکتی ہیں۔
ایل آل اسرائیل ایئرلائنز
29 جون کو اسرائیلی ایئرلائن ایل آل اسرائیل کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کی چند پروازیں منسوخ ہوئی ہیں جب کہ باقی پروازیں معمول کے مطابق جاری ہیں۔
ایمریٹس
ایمریٹس نے تہران کے لیے پانچ جولائی تک پروازیں منسوخ کر رکھی ہیں۔ اس ایئرلائن کی بغداد کے لیے پروازیں یکم جولائی سے اور بصرہ کے لیے دو جولائی سے بحال ہوں گی۔
فِن ایئر
فِن لینڈ کی ایئرلائن نے دوحہ کے لیے پروازیں آج تیس جون تک منسوخ رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ ایئرلائن ایران، عراق، شام اور اسرائیل کی فضائی حدود استعمال نہیں کر رہی۔
فلائی دبئی
اس اماراتی ایئرلائن نے کہا ہے کہ یہ اپنی معمول کی پروازیں یکم جولائی سے بحال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
برٹش ایئرویز.
برٹش ایئرویز تل ابیب کے لیے اپنی پروازیں 31 جولائی تک معطل رکھے گی جبکہ عمان اور بحرین کے لیے پروازیں آج 30 جون تک معطل رہیں گی۔
آئی بیریا ایکسپریس نے تل ابیب کے لیے اپنی پروازیں 25 اکتوبر تک معطل رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
آئی ٹی اے ایئرویز
آئی ٹی اے نامی اطالوی ایئرلائن نے تل ابیب کے لیے اپنی پروازیں 31 جولائی تک معطل کر رکھی ہیں۔
جاپان ایئرلائنز
جاپا ایئرلائن نے دو جولائی تک دوحہ کے لیے اپنی پروازیں منسوخ رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
لفتھانزا گروپ
جرمن فضائی کمپنی لفتھانزا نے بیروت کے لیے اپنی پروازیں آج تیس جون تک اور تل ابیب اور تہران کے لیے 31 جولائی تک معطل رکھنے کا اعلان کیا ہے ۔
عمان اور اربیل کے لیےپروازیںگیارہ جولائی تک معطل رہیں گی۔ ایئرلائن نے یہ بھی کہا کہ اس دوران متعلقہ ممالک کی فضائی حدود استعمال نہیں کی جائے گی۔پیگاسس
ترکی کی نجی ایئرلائن پیگاسس نے ایران کے لیے سات جولائی تک اور عراق، لبنان اور اردن کے لیے چار جولائی تک اپنی پروازیں منسوخ رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
قطر ایئرویز
قطر ایئرویز بغداد کے لیے اپنی پروازیں تیس جون، اربیل کے لیے یکم جولائی، سلیمانیہ اور نجف کے لیے دو جولائی، بصرہ کے لیے تین جولائی اور دمشق کے لیے چار جولائی سے اپنی پروازیں بحال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
رائن ایئر
رائن ایئر نے تل ابیب اور عمان کے لیے پروازیں پچیس اکتوبر تک منسوخ رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
یونائیٹڈ ایئرلائنز
اس امریکی ایئرلائن کے مطابق تل ابیب کے لیے اس کی پروازیں یکم اگست تک متاثر رہ سکتی ہیں جبکہ دبئی کے لیے تین جولائی تک متاثر رہیں گی۔
وِز ایئر
وز ایئر تل ابیب اور عمان کے لیے اپنی پروازیں پندرہ ستمبر تک معطل رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ہنگری کی یہ ایئرلائن اسرائیل، عراق، ایران اور شام کی فضائی حدود سے اجتناب برت رہی ہے۔
ادارت: شکور رحیم
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے لیے اپنی پروازیں تمام پروازیں منسوخ پروازیں منسوخ کر تک معطل رکھنے کا کے لیے پروازیں جولائی تک معطل تل ابیب کے لیے کی ایئرلائن ایئرلائن نے کر رکھی ہیں نے تل ابیب جولائی سے کے مطابق رہیں گی
پڑھیں:
ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
واشنگٹن:امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
https://t.co/Wtbk84dEsc
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔