ایئرانڈیا حادثہ اور 274 مسافروں کی ہلاکت بھارتی ایوی ایشن نظام کی بدترین ناکامی
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
ایئرانڈیا حادثہ اور اس میں 274 مسافروں کی ہلاکت دراصل بھارتی ایوی ایشن نظام کی بدترین ناکامی کے طور پر ثابت ہو چکا ہے۔
بھارتی طیارے اے آئی 171 کا حادثہ بھارتی ایوی ایشن کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ صرف ایک حادثہ نہیں، بلکہ بھارتی ایوی ایشن سسٹم کی ناکامی کو ثابت کرتا ہے۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق ایئر انڈیا کے طیارے اے آئی 171 کےحالیہ حادثے میں 274 افراد ہلاک ہوئے۔ ایئر انڈیا کےطیارے اے آئی 171 کا بلیک باکس بھارتی طیارہ حادثہ تحقیقاتی بیورو کی تحویل میں ہے، جہاں سے تاحال کوئی واضح رپورٹ سامنے نہیں آ سکی ہے۔
بھارتی طیارہ حادثے پر تحقیقاتی بیورو غیر جانبدارانہ تفتیش اور حادثے کے حوالے سے وجوہات دینے میں اب تک ناکام رہا ہے۔ حادثے کے حقائق عوام کے سامنے نہ لانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بھارتی ایوی ایشن کی نااہلی کو چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق مملکتی وزیر مرلی دھر موہول کا کہنا ہے کہ طیارے کے دونوں انجن ایک ساتھ فیل ہونا تکنیکی نگرانی میں سنگین غفلت کو ظاہر کرتا ہے۔
بھارتی پائلٹس کی غیر مؤثر تربیت اور ایس او پیز کی وا ضح اس حادثے کی وجہ بنی۔ ایئر انڈیا کی مینجمنٹ اگر مستعد ہوتی تو 274 قیمتی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔ بھارتی ایوی ایشن اتھارٹی کی نااہلی اور حکومتی اداروں کی خاموشی نے ایک بار پھر بھارتی عوام کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔
بھارتی طیارے اے آئی 171 کے حادثے کے پیچھے مودی سرکار اور ایوی ایشن اتھارٹی کی سنگین غفلت کارفرما ہے۔ بھارت میں داخل پروازوں کے درجنوں حادثات کے بعد بھارتی ایئر لائنز پر سے عوام کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔
ایئر انڈیا جیسے قومی ادارے کی جانب سے ایسے خوفناک حادثات ہونا اس بات کا اشارہ ہے کہ بھارتی ایوی ایشن نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بھارتی ایوی ایشن طیارے اے آئی 171 ایئر انڈیا
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔