پی ٹی آئی سے انتخابی نشان چھیننا سیاسی ناانصافی، عوام کے مینڈیٹ کی توہین تھی: شیخ وقاص اکرم
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے دعویٰ کیا ہے کہ 8 فروری 2024 کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی نے 180 نشستیں جیتی تھیں، اور تحریک انصاف سے انتخابی نشان چھیننا ایک المناک واقعہ تھا، پارٹی سے انتخابی نشان چھین لینا سیاسی ناانصافی تھی، اور عوام کے مینڈیٹ کی توہین ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان نے پارٹی رہنماؤں سے ملاقات میں کیا ہدایات دیں؟ شیخ وقاص اکرم نے تفصیلات بتادیں
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سیکریٹری اطلاعات پی ٹی آئی شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ مریم نواز کی بجٹ تقریر کے دوران پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی نے بھرپور احتجاج کیا، جبکہ صوبائی وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر کے دوران بھی ایوان میں شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔
اس ناانصافی کی بنیاد اس دن رکھی گئی جس دن ملک کی سب سے بڑی جماعت سے انتخابی نشان چھینا گیا، جس فائز عیسی نے جس دن حلف اٹھایا اسی دن اس کی جانبداری ثابت ہو گئی تھی، ان کے ہر انداز سے عمران خان کے خلاف بغض اور حسد واضح نظر آتا تھا ، پی ٹی آئی سے نشان چھیننا ایک المیہ تھا،ٹیکنیکل… pic.
— PTI (@PTIofficial) June 30, 2025
شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ جب آپ عوام دشمن اور کسان کُش بجٹ پیش کریں گے، جب عوام کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے والے اقدامات کیے جائیں گے تو احتجاج تو ہوگا، پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی نے صرف عوام کی آواز بن کر ایوان میں احتجاج کیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ اس احتجاج کی پاداش میں پی ٹی آئی کے 26 ارکان اسمبلی کو اگلی 15 سٹنگز کے لیے معطل کر دیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ انہیں کئی مہینے ایوان سے دور رکھا جائے گا۔ ’15 سٹنگز کا مطلب ہوتا ہے تقریباً 6 ماہ کی معطلی،‘ انہوں نے وضاحت کی۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی نے کسی کو اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کے لیے کوئی ٹاسک نہیں دیا، شیخ وقاص اکرم
شیخ وقاص اکرم نے سوال اٹھایا کہ جن ارکان کو عوام نے لاکھوں ووٹوں سے منتخب کیا، انہیں صرف احتجاج کی بنیاد پر ایوان سے باہر کیسے کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف کے امیدوار آزاد حیثیت سے الیکشن جیت کر پارٹی میں شامل ہوئے، اس لیے پی ٹی آئی کی سیٹیں کسی اور جماعت کو دینا غیر آئینی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس ناانصافی کی بنیاد اس دن رکھی گئی جس دن ملک کی سب سے بڑی جماعت سے انتخابی نشان چھینا گیا، جس فائز عیسیٰ نے جس دن حلف اٹھایا اسی دن اس کی جانبداری ثابت ہو گئی تھی، ان کے ہر انداز سے عمران خان کے خلاف بغض اور حسد واضح نظر آتا تھا ، پی ٹی آئی سے نشان چھیننا ایک المیہ تھا، ٹیکنیکل ایشوز کو بنیاد بنا کر کروڑوں ووٹوں کی بے توقیری کی گئی، جھوٹے مقدمات، عمران خان سے تعصب،امیدواروں کے اغواء ان سے کاغزات چھیننے پر مجرمانہ خاموشی رکھی گئی، قاضی فائز عیسیٰ کے لیے اتنا ہی کہوں گا اس کا عدل نہیں بدلا لینے کے فیصلے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پنجاب اسمبلی پی ٹی آئی شیخ وقاص اکرم
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پنجاب اسمبلی پی ٹی ا ئی شیخ وقاص اکرم شیخ وقاص اکرم نے نشان چھیننا پی ٹی ا ئی احتجاج کی انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔