—فائل فوٹو

پیپلز پارٹی کہ سینیٹر پلوشہ خان نے کہا ہے کہ پاک بھارت جنگ میں میرا واٹس ایپ اڑا دیا گیا، مجھے کوئی سائبر سیکیورٹی الرٹ نہیں ملا۔

پلوشہ خان کی زیرِ صدارت سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کا اجلاس ہوا جس میں پی ایس ڈی پی سال 25-2024ء فنڈز کے استعمال سے متعلق ایجنڈا زیرِ بحث آیا۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے پلوشہ خان نے کہا کہ وزارت آئی ٹی کے پی ایس ڈی پی فنڈز کے استعمال اور پلاننگ کمیشن کے ترقیاتی بجٹ میں تضاد ہے، سینیٹ کی پلاننگ کمیٹی سے جو خط ملا، اس میں اور آپ کے بریف پیپرز میں فرق ہے۔

سینیٹر پلوشہ خان کا ایئر پورٹ سیکیورٹی فورس کو سول آرمڈ فورسز میں شامل کرنے کا مطالبہ

سینیٹر پلوشہ خان نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی داخلہ کے اجلاس میں انسدادِ دہشت گردی کا بل پیش کر دیا۔

وزارت آئی ٹی کے حکام نے کہا کہ پلاننگ کمیشن سے منصوبوں کی منظوری بھی تاخیر سے ہوئی ہے۔

سینیٹر افنان اللّٰہ نے کہا کہ گزشتہ سال وزارت آئی ٹی کو 21 ارب روپے مختص ہوئے، اس سال 16 ارب مختص کیے گئے، اس کی وجہ کیا ہے؟

وفاقی وزیر شزا فاطمہ نے کہا کہ اس بار مجموعی طور پر پی ایس ڈی پی فنڈز سے متعلق کٹوتیاں کی گئی ہیں، ایک سال پہلے قومی سطح پر نیشنل کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم بنی تھی، اب صوبائی سطح پر بھی کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں تیار ہیں، نیشنل کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم سائبر سیکیورٹی سے متعلق آگاہی فراہم کرتا ہے۔

پلوشہ خان نے کہا کہ پاک بھارت جنگ میں میرا واٹس ایپ اڑا دیا گیا، مجھے کوئی سائبر سیکیورٹی الرٹ نہیں ملا، سینیٹ قائمہ کمیٹیوں میں اکثر انٹرنیٹ کا مسئلہ رہتا ہے، یہ تو وزارت ٹھیک کرا دے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: سائبر سیکیورٹی پلوشہ خان نے نے کہا کہ آئی ٹی

پڑھیں:

ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ